ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکا سمیت بڑی طاقتوں کی ایران کو فتح کرنے کی کوششیں تاریخ کے کوڑے دان میں جا پہنچی ہیں۔
محسن رضائی نے اپنے بیان میں امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی محاذ آرائی میں ناکامی کے بعد واشنگٹن نے معاشی جنگ کا سہارا لیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جاری محاذ آرائی کا خاتمہ کب ہوگا، اس کا فیصلہ امریکا نہیں بلکہ ایران کرے گا۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران اپنے جائز مطالبات پورے ہونے تک مزاحمت جاری رکھے گا۔ ان کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی وارننگ
محسن رضائی نے امریکا کو خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو امریکی اثاثے بھی نشانے پر آسکتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر اہم ڈیٹا سسٹمز اور مصنوعی ذہانت سے منسلک سینسرز کو ممکنہ اہداف میں شامل کیا۔
یہ بھی پڑھیں :امریکہ کے ایران پر پھر حملے ، کئی شہروں میں دھماکے ، ٹرمپ نے بڑی دھمکی دیدی
ان کے اس بیان میں ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں جوابی اقدامات کا اشارہ دیا گیا ہے۔ تاہم دستیاب بیان میں ان ممکنہ اہداف کی جگہ یا کسی کارروائی کے طریقہ کار کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
محسن رضائی نے امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف مختلف طریقے آزما چکا ہے۔ ان کے مطابق معاشی دباؤ بھی ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوا۔
سفارت کاری کا راستہ مکمل بند نہیں
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری نے کہا کہ ایران اب پہلے جیسے سفارتی طریقہ کار کی طرف واپس نہیں آئے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تہران سفارت کاری کو مکمل طور پر ترک نہیں کرے گا۔
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ محسن رضائی نے ایک طرف ایران کے سخت مؤقف کو دہرایا ہے اور دوسری طرف سفارتی رابطوں کے امکان کو بھی برقرار رکھا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں سفارت کاری کی نوعیت پہلے جیسی نہیں ہوگی۔
انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کن سفارتی طریقوں کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اسی طرح ان کے بیان میں یہ تفصیل بھی موجود نہیں کہ ایران کے جائز مطالبات سے مراد کون سی مخصوص شرائط ہیں۔
معاشی دباؤ پر تہران کا مؤقف
محسن رضائی نے امریکا کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے مایوسی کے عالم میں ایران کے خلاف معاشی جنگ کا سہارا لیا ہے۔
ان کے بیان میں معاشی دباؤ کو ایران کے خلاف محاذ آرائی کا ایک اہم پہلو قرار دیا گیا ہے۔ تاہم بیان میں کسی مخصوص پابندی، مالیاتی اقدام یا معاشی نقصان کے اعداد و شمار کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں محسن رضائی کے الفاظ تہران کے سخت مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے مطالبات کی تکمیل تک مزاحمت جاری رکھے گا۔
بیان میں سخت پیغام
محسن رضائی کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ایران اپنے خلاف فوجی اور معاشی دباؤ کے باوجود پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے امریکی قیادت کو یہ پیغام بھی دیا کہ نئی جارحیت کی صورت میں امریکی اثاثوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے تعلقات میں کشیدگی ایک اہم معاملہ ہے۔ تاہم فراہم کردہ خبر میں کسی نئی امریکی فوجی کارروائی یا ایران کی جانب سے کسی عملی جوابی اقدام کی تصدیق نہیں کی گئی۔
محسن رضائی نے سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور پر بند کرنے سے بھی گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے پہلے والے طریقہ کار پر واپس نہیں آئے گا لیکن سفارتی راستہ مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوگا۔


