کنٹینر والوں کا شو ختم، دہشتگردی کا خاتمہ اولین ترجیح ، اب پالیسی قندھار جلال آباد نہیں وفاق سے آئے گی ،گورنر خیبر پختونخوا

کنٹینر والوں کا شو ختم، دہشتگردی کا خاتمہ اولین ترجیح ، اب  پالیسی قندھار جلال آباد نہیں  وفاق سے آئے گی ،گورنر خیبر پختونخوا

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہمارا پہلا ورکنگ ڈے تھا، گزشتہ دنوں جو سرکس لگایا گیا تھا اسے مسترد کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان کا کنٹینر لاوارث کھڑا ہے اور ہم انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی آکر اسے لے جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں ہماری پہلی ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ ہے اور پولیس کے جوانوں کو ہتھیاروں کی فراہمی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام، فوج اور پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کے تعاون سے آگے بڑھا جائے گا۔ ان کے مطابق صوبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت تعاون کرے گی اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ضروری وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سرکس مسترد کرنے پر عوام کا شکریہ

فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کی حالیہ احتجاجی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں جو سرکس جاری تھا، عوام نے اسے مسترد کیا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ احتجاج کے لیے استعمال ہونے والا کنٹینر لاوارث کھڑا ہے اور انتظار ہے کہ کوئی آکر اسے لے جائے۔

دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کا خاتمہ ان کی پہلی ترجیح ہےپولیس اہلکاروں کو ضروری ہتھیاروں اور وسائل کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا مؤثر کردار انتہائی اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں :فیصلہ موخر ہو بھی، سزاوار کو سزاملنی ہے، گورنر کے پی

انہوں نے کہا کہ عوام، فوج اور پولیس ایک ساتھ کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ مل کر لڑی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو امن کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی،فیصل کریم کنڈی نے امید ظاہر کی کہ صوبہ مشکلات سے نکل کر بہتری کی جانب بڑھے گا ہمارا سفر اجالے کی طرف گامزن ہے۔

وفاق اور صوبے میں تعاون کا نیا دور

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ زمانہ گزر گیا جب وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون نہیں ہوتا تھا۔ اب صوبے کو جس چیز کی کمی ہوگی، وفاق اسے پورا کرنے کے لیے تعاون کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبے کو درپیش ضروریات کے لیے وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ گورنر کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے، پولیس کی استعداد بڑھانے اور امن و امان کی بہتری کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر تعاون ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے باعث بہت مشکلات برداشت کی ہیں، اس لیے اب ان کے تحفظ اور امن کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

گورنر ہاؤس پر چڑھائی کرنے والوں کا انتظار تھا

گورنر نے مزید کہا کہ وہ گورنر ہاؤس پر چڑھائی کرنے کے لیے آنے والوں کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے امن، استحکام اور انتظامی بہتری کی ضرورت ہے حکومت کی توجہ دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کو درپیش مسائل حل کرنے پر مرکوز رہے گی۔

ڈاکٹروں کو ہڑتال ختم کرنے کی اپیل

فیصل کریم کنڈی نے ڈاکٹروں سے بھی ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی شروع کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹروں پر مسلط مافیا اب ختم ہوچکا ہے۔

گورنر کے اس بیان میں صحت کے شعبے میں جاری مسائل کے حل اور طبی خدمات کی بحالی پر زور دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے اور ہڑتالوں کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

پالیسی جلال آباد اور قندھار سے نہیں، وفاق سے آئے گی

گورنر خیبر پختونخوا نے پالیسی سازی کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی پالیسی جلال آباد اور قندھار سے نہیں بلکہ وفاق سے آئے گی۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ان کی پہلی ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے تعاون سے آگے بڑھا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی کے لیے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ پولیس کو ضروری وسائل فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو بدامنی سے نکال کر امن اور استحکام کی طرف لے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

editor

Related Articles