خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد جہاں ایک جانب صوبے کے عوام یوم نجات منا رہے ہیں تو دوسری جانب خیبر پختونخوا کی صورتحال سے متعلق افغان اور بھارتی سوشل میڈیا اکاونٹس کی جانب سے من گھڑت پروپیگنڈا بے نقاب ہوگیا۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق افغان اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس مفاد پرست سیاسی اکاؤنٹس کے ساتھ مل کر جعلی ویڈیوز اور گمراہ کن مواد پھیلانے میں مصروف ہیں۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اپنے فیکٹ چیک میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بدامنی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر من گھڑت اور گمراہ کن دعوے پھیلائے جا رہے ہیں، جن کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تصاویر، پرانی فوٹیج اور غیر متعلقہ ویڈیوز استعمال کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کنٹینر والوں کا شو ختم، دہشتگردی کا خاتمہ اولین ترجیح ، اب پالیسی قندھار جلال آباد نہیں وفاق سے آئے گی ،گورنر خیبر پختونخوا
وزارتِ اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد میں فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات، لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور شام سمیت دیگر مقامات کی ویڈیوز شامل ہیں۔ ان ویڈیوز کو غلط کیپشنز کے ساتھ پیش کرکے خیبر پختونخوا میں افراتفری اور بدامنی کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے مزید کہا کہ افغان اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس مفاد پرست سیاسی اکاؤنٹس کے ساتھ مل کر اس بیانیے کو ہوا دے رہے ہیں۔
وزارت کے مطابق یہ سرگرمیاں ایک منظم اور غیر ملکی سرپرستی میں چلائے جانے والے پروپیگنڈے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
𝐅𝐚𝐜𝐭 𝐂𝐡𝐞𝐜𝐤 | 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐫𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐁𝐫𝐨𝐚𝐝𝐜𝐚𝐬𝐭𝐢𝐧𝐠
◼️ Mischievous social media handles are circulating misleading claims of fabricated unrest in KP, using AI-generated visuals, old footage and unrelated videos.
◼️ The circulated material includes like factory fires, protests over load shedding and footages from Syria etc; all mis-captioned to manufacture an impression of chaos.
◼️ Afghan and Indian accounts are also amplifying this narrative in coord with vested political accounts, which further confirms a coordinated foreign driven propaganda.
Truth Prevails over Falsehood
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) October 12, 2026


