علاقائی توانائی مرکز بننے کی جانب پاکستان کی بڑی پیش قدمی، حب میں میگا آئل اسٹوریج اور ریفائننگ کمپلیکس کا منصوبہ

علاقائی توانائی مرکز بننے کی جانب پاکستان کی بڑی پیش قدمی، حب میں میگا آئل اسٹوریج اور ریفائننگ کمپلیکس کا منصوبہ

پاکستان نے سعودی عرب کو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کرتے ہوئے ٹیکس کے حوالے سے غیر جانبدار پالیسی کے تحت تیل ذخیرہ کرنے کی سہولتیں قائم کرنے کی پیشکش کردی ہے، جس کے ذریعے سعودی کمپنیاں پاکستان میں مقامی ٹیکس واجبات کے بغیر تجارتی بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر قائم کرسکیں گی۔

وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق حکومت نے نئی بانڈڈ آئل اسٹوریج پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے، بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کی سرمایہ کاری حاصل کرنے اور خطے میں متبادل توانائی سپلائی روٹس کو فروغ دینا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے اور مختلف ممالک تیل کی فراہمی کے لیے متبادل انتظامات تلاش کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعہ کے روز پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجح بن تمی البقمی سے ملاقات کی، جس میں کان کنی، پیٹرولیم اور توانائی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور سرمایہ کاری بڑھانے کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے فجیرہ اور سنگاپور جیسے بین الاقوامی توانائی مراکز کی طرز پر ٹیکس نیوٹرل بانڈڈ پالیسی منظور کی ہے، جس کے تحت سعودی کمپنیاں پاکستان میں تجارتی مقاصد کے لیے تیل کے ذخائر قائم کرسکیں گی اور انہیں مقامی ٹیکس واجبات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں پاکستانی فنکاروں کی محفلیں، حمیرا ارشد اور ذیشان روکھڑی کی شرکت

علی پرویز ملک کے مطابق اس پالیسی سے سعودی عرب کو آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سے وابستہ بحری نقل و حمل کے خطرات کم کرنے، تیل کی ترسیل کے متبادل راستے اختیار کرنے اور ایشیائی منڈیوں تک رسائی میں آسانی حاصل ہوگی۔

پاکستانی حکومت سعودی عرب، کویت، نیدرلینڈز، سنگاپور اور دیگر ممالک کی بڑی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے ساتھ بانڈڈ فیول اسٹوریج سہولتوں کے قیام پر بھی بات چیت کر رہی ہے، جن میں ممکنہ سرمایہ کاری کا حجم اربوں ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

مجوزہ منصوبوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی ترسیل پر انحصار کم کرنے کے ساتھ پاکستان کی اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے سعودی سفیر کو بتایا کہ پاکستان میں اسٹریٹجک آئل اسٹوریج سہولتوں کے قیام سے سعودی عرب کو تیل کی سپلائی کے راستوں کے انتظام اور علاقائی منڈیوں تک رسائی میں زیادہ سہولت حاصل ہوگی۔

انہوں نے بلوچستان کے علاقے حب میں پیٹرولیم ذخیرہ کرنے اور ریفائننگ کا ایک بڑا کمپلیکس قائم کرنے کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا، جہاں انتہائی بڑے خام تیل بردار بحری جہازوں کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کو وسطی ایشیا اور چین کی منڈیوں کے لیے علاقائی توانائی راہداری کے طور پر ترقی دینے کے امکانات بھی بڑھیں گے۔

ملاقات میں پاکستان کے جاری ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کا مقصد ملکی ریفائننگ انفراسٹرکچر کو جدید بنانا، پیداواری کارکردگی بہتر کرنا اور یورو 5 معیار کے ایندھن کی جانب منتقلی کو فروغ دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برادرانہ تعلقات سےاسٹریٹجک شراکت داری تک،پاکستان اور سعودی عرب کا تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ

وفاقی وزیر نے سعودی عرب کو اس پروگرام میں سرمایہ کاری اور پاکستان کے ریفائننگ شعبے کی ترقی میں شراکت داری کے مواقع سے بھی آگاہ کیا۔

علی پرویز ملک نے سعودی حکام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ینبع بندرگاہ سے پاکستان کے لیے خام تیل کی ترسیل کو ترجیح دی۔

ملاقات میں سعودی آرامکو کے ساتھ تعاون بڑھانے، خام تیل کی مزید کھیپوں کی خریداری اور پاکستان کے لیے ایل پی جی کی مخصوص ترسیل کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق موسمِ سرما میں ملک میں گیس کی طلب میں متوقع اضافے کے پیشِ نظر ایل پی جی کی اضافی فراہمی پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق دونوں ممالک نے توانائی اور پیٹرولیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Related Articles