کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ بتائی جانے والی عمارت پر تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق نوٹس آویزاں کرتے ہوئے 15 روز کے اندر غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف بلڈنگ کنٹرول (سٹی) کی جانب سے 30 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ نوٹس میں اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس فور، اسٹریٹ نمبر 83، پلاٹ نمبر 7 پر واقع عمارت میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020، ترمیم شدہ 2023، کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
نوٹس کے مطابق عمارت میں مقررہ تعمیراتی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی اور غیر مجاز تعمیرات کی گئی ہیں، جبکہ سی ڈی اے کی اراضی پر گارڈ پوسٹیں قائم کرنے اور جنریٹر نصب کرنے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
سی ڈی اے نے متعلقہ عمارت کے مالک یا قابض کو ہدایت کی ہے کہ نوٹس جاری ہونے کی تاریخ سے 15 روز کے اندر تمام نشاندہی شدہ خلاف ورزیاں ختم کی جائیں، بصورتِ دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سی ڈی اے کے نوٹس میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ متعلقہ عمارت کے مالک نے 18 مارچ 2019 کو این او سی کے اجرا کے وقت ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا تھا، جس میں مقررہ تعمیراتی حدود کی خلاف ورزیاں تین ماہ کے اندر ختم کرنے اور سی ڈی اے کے تمام قواعد و ضوابط کی پابندی کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
تاہم سی ڈی اے کے مطابق اس یقین دہانی کے باوجود متعلقہ خلاف ورزیاں ختم نہیں کی گئیں اور حلف نامے کی شرائط پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
عمارت سیل کرنے اور الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی کارروائی کا انتباہ
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت میں خلاف ورزیاں ختم نہ ہونے کی صورت میں سی ڈی اے آرڈیننس اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020، ترمیم شدہ 2023، کے تحت قانونی کارروائی کرے گا۔
اس کارروائی کے نتیجے میں عمارت سیل کی جاسکتی ہے، غیر قانونی تعمیرات گرائی جاسکتی ہیں، جبکہ پلاٹ کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے لیے بھی کارروائی شروع کی جاسکتی ہے۔
نوٹس ڈپٹی ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول سیکشن ٹو کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جبکہ اس کی نقول سی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل بلڈنگ اینڈ ہاؤسنگ کنٹرول اور ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول (سٹی) کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔
دستیاب نوٹس پر امان اللہ ولد محمد یونس کا نام بطور مالک یا قابض درج ہے۔ مولانا فضل الرحمان سے اس عمارت کی رہائشی نسبت فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے۔
