سینئر صحافی ظاہر شاہ شیرازی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی طرزِ عمل، امریکی سفارت کاروں سے ملاقاتوں اور پشاور میں مفتی محمود مرکز سے متعلق تجاوزات کے معاملے پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کی سیاست میں دوہرے معیار اور تضادات کی نشاندہی کی ہے۔
اپنے حالیہ تجزیے میں ظاہر شاہ شیرازی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع ابلاغ میں مولانا فضل الرحمان کی امریکی سفیر سے ملاقاتوں اور وزارتِ عظمیٰ کے حصول کی خواہش سے متعلق تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، جنہوں نے ان کے سیاسی بیانیے کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
سینئر صحافی نے کہا کہ ایک طرف مولانا فضل الرحمان اقتدار کے حصول کے لیے غیر ملکی سفارت کاروں سے روابط رکھتے ہیں، جبکہ دوسری جانب اندرونِ ملک ان کا سیاسی بیانیہ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کے قول و فعل میں یہ فرق عوام کے سامنے واضح ہونا چاہیے۔
وکی لیکس کی جانب سے منظرِ عام پر آنے والی امریکی سفارتی دستاویزات کے مطابق 20 نومبر 2007 کو مولانا فضل الرحمان نے اس وقت کی امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے ملاقات کی تھی۔ سفارتی مراسلے میں درج ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے امریکی سفیر سے سوال کیا تھا کہ اگر وہ پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہو جائیں تو کیا امریکی حکومت ان کے ساتھ کام کرے گی۔ امریکی سفیر نے جواب دیا تھا کہ واشنگٹن پاکستان کے جمہوری عمل اور عوام کے انتخاب کا احترام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اقتدار گیا تو اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی ! فضل الرحمن اور جاوید ہاشمی کی مفاد پرست سیاست پر فیصل آباد کے عوام کی سخت تنقید
ظاہر شاہ شیرازی نے ان سفارتی رابطوں کے تناظر میں سوال اٹھایا کہ اگر سیاسی قیادت اقتدار کے حصول کے لیے بین الاقوامی سطح پر روابط اور حمایت کی خواہش رکھتی ہے تو پھر ملکی سیاست میں اختیار کیے جانے والے مؤقف اور بیانات میں تضاد کیوں دکھائی دیتا ہے؟
سینئر صحافی نے پشاور میں جمعیت علمائے اسلام کے مفتی محمود مرکز سے متعلق تجاوزات کے معاملے کو بھی اپنی تنقید کا حصہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون، ضابطوں اور سرکاری احکامات پر عمل درآمد کو عام شہریوں کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے، لیکن جب معاملہ سیاسی یا مذہبی جماعتوں کے اپنے مراکز کا ہو تو انہی قوانین کی تشریح مختلف انداز میں کی جانے لگتی ہے۔
ظاہر شاہ شیرازی نے سوال اٹھایا کہ اگر تجاوزات کے خلاف کارروائی عوام اور عام کاروباری افراد کے لیے قانونی طور پر ضروری ہے تو سیاسی جماعتوں اور مذہبی مراکز کو اس سے الگ کیوں سمجھا جائے؟
انہوں نے مفتی محمود مرکز پشاور سے متعلق تجاوزات کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام کے ردعمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قانون کی عمل داری کے لیے یکساں اصول اختیار کرنا ضروری ہے اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر مختلف معیارات نہیں ہونے چاہییں۔
سینئر صحافی کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کے سیاسی طرزِ عمل میں ایسے تضادات موجود ہیں جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عمومی معاملات میں قانون کی پابندی پر زور دیا جاتا ہے، لیکن اپنے سیاسی مفادات سے متعلق معاملات میں مختلف مؤقف اختیار کیا جاتا ہے۔
ظاہر شاہ شیرازی نے مزید کہا کہ مذہب اور سیاست کے نام پر ذاتی یا جماعتی مفادات کو ترجیح دینے کا رجحان عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ ان کے نزدیک سیاسی قیادت کو اپنے بیانات، فیصلوں اور عملی اقدامات میں یکسانیت اختیار کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی امریکی سفارت کاروں سے ملاقاتوں، وزارتِ عظمیٰ سے متعلق خواہش اور مفتی محمود مرکز کے معاملے پر اختیار کیے گئے مؤقف کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ان کی سیاست میں دوہرے معیار سے متعلق سوالات سامنے آتے ہیں۔
