مہنگائی کا ایک اور بڑا جھٹکا، ایل پی جی کے بعد ایل این جی بھی مہنگی

مہنگائی کا ایک اور بڑا جھٹکا، ایل پی جی کے بعد ایل این جی بھی   مہنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگ گیا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل این جی کی قیمتوں میں 15.27 فیصد تک اضافہ کردیا، جس کے نتیجے میں گیس کی درآمدی لاگت بڑھنے کے ساتھ ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے والے بجلی گھروں کے اخراجات میں بھی اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل این جی کی قیمت میں 2.17 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) تک اضافہ کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے سسٹم کے لیے ایل این جی کی قیمت 2.13 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو بڑھائی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 17.32 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر ہوگئی ہے۔

اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم کے لیے ایل این جی کی قیمت میں 2.17 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 16.39 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی ایل این جی کی قیمتوں کے حوالے سے اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بجلی گھروں کے لیے بین الاقوامی اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی تقریباً 27.33 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر دستیاب تھی۔

اسی دوران پاکستان نے قطر سے ایل این جی کا ایک کارگو برینٹ خام تیل کی قیمت کے 13.37 فیصد کے حساب سے حاصل کیا۔ تاہم اسپاٹ مارکیٹ میں دستیاب ایل این جی اور قطر سے حاصل کیے گئے کارگو کی قیمتوں کا تعین مختلف نوعیت کے معاہدوں کے تحت کیا گیا ہے۔

ایل این جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا ایک اہم اثر بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوسکتا ہے۔ ری گیسیفائیڈ ایل این جی (آر ایل این جی) استعمال کرنے والے تھرمل بجلی گھروں کے لیے ایندھن کی لاگت بڑھنے سے بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کا امکان ہے۔

بجلی کی پیداواری لاگت میں یہ اضافہ بعد میں ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے گھریلو اور کمرشل صارفین کے بجلی بلوں پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے، تاہم صارفین کے بلوں میں کسی اضافے کا انحصار متعلقہ ریگولیٹری فیصلوں پر ہوگا۔

اس سے قبل ستمبر 2026 کی بجلی کی پیداواری لاگت کی بنیاد پر اکتوبر میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے سامنے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 2 روپے 56 پیسے اضافے کی درخواست بھی پیش کی جاچکی ہے۔

یہ درخواست ماہانہ فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ سے متعلق تھی، جبکہ ایل این جی کی قیمتوں میں تازہ اضافہ بجلی کی آئندہ پیداواری لاگت کے حوالے سے ایک الگ اہم پیش رفت ہے۔

ایل پی جی کے بعد ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے نے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے اخراجات کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا ہے، جبکہ آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے والے بجلی گھروں کی لاگت میں اضافے کے ممکنہ اثرات بھی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

Related Articles