سینئر صحافی غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اثر و رسوخ تقریباً ختم ہو چکا ہے، کمیٹی سے وابستہ متعدد افراد اسے چھوڑ کر ریاست پاکستان اور ریاست آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں، جبکہ چند افراد محدود علاقے میں رہ گئے ہیں جن کی حمایت کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی۔
غریدہ فاروقی نے اپنے بیان میں کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے اور اس سے علیحدگی اختیار کرنے والے افراد ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی چھوڑنے والے افراد، جو شرپسندی، فساد اور فتنہ انگیزی سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں، ان کے ساتھ بات چیت اور روابط جاری ہیں۔
سینئر صحافی کے مطابق جو لوگ ریاست پاکستان اور ریاست آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں، ان سے رابطے کیے جا رہے ہیں اور انہیں بات چیت کے عمل میں شامل کیا جا رہا ہے۔
غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے باقی رہ جانے والے چند افراد اب صرف ایک محدود علاقے اور آبادی کے مخصوص حصے میں اپنی حمایت برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں میں ان کا اثر و رسوخ باقی نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ پورے آزاد کشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہیں، معاملات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں اور روزمرہ زندگی کے معمولات جاری ہیں۔
غریدہ فاروقی نے مزید کہا کہ محدود تعداد میں باقی رہ جانے والے افراد اب کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے اور آزاد کشمیر میں دنگے فساد، شرپسندی اور جتھوں کی سیاست کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ان کے مطابق کمیٹی سے علیحدگی اختیار کرنے والے افراد کی ریاست کے ساتھ وابستگی اور حالات میں بہتری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آزاد کشمیر میں معمولات زندگی بحال ہیں۔
