پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع ختم کرانے اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے محتاط طور پر پُرامید ہے، تاہم بعض طاقتور عناصر اس تنازع کو جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے الجزیرہ اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا رواں ماہ دو مرتبہ تہران کا دورہ کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششوں میں کچھ مثبت پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر فیلڈ مارشل دو مرتبہ تہران نہیں جاتے تو اس کے پیچھے کوئی مثبت پہلو نہ ہوتا، اسی لیے پاکستان ان کوششوں کے نتائج کے حوالے سے محتاط امید رکھتا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے خبردار کیا کہ ایسے طاقتور عناصر بھی موجود ہیں جو نہیں چاہتے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع ختم ہو، کیونکہ ان کے خیال میں اس کشیدگی کا برقرار رہنا ان کے مفادات کے لیے فائدہ مند ہے۔ تاہم انہوں نے ان عناصر کی نشاندہی نہیں کی۔
انہوں نے تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ بھی واضح نہیں کیا کہ آیا امریکا کو ان دوروں کی حمایت حاصل تھی یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق پیر کے روز جنرل عاصم منیر کے ہمراہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن نے بھی تہران کا دورہ کیا تھا۔ اس ملاقات کو ایران اور سعودی عرب سمیت خطے کے اہم ممالک کے درمیان رابطوں کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی ممکنہ شمولیت سے متعلق سوال پر کہا کہ معاہدے کی شرائط نئے ارکان کی شمولیت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی ملک اجتماعی دفاع اور علاقائی امن کے مشترکہ وژن پر یقین رکھتا ہے، اس کا خیرمقدم کیا جا سکتا ہے، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ تینوں ممالک کی سیاسی قیادت کرے گی۔
انہوں نے سعودی عرب کے دفاع اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کا فیصلہ حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کی مشاورت سے ہوگا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک بھی مذاکرات کی بحالی کے لیے متحرک ہیں۔
