خیبر پختونخوا کے ہیلتھ کیئر امپروومنٹ پراجیکٹ ایچ سی آئی پی میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، غیر مسابقتی خریداری، تعمیراتی ٹھیکوں کی تقسیم اور ملازمین کی حاضری و تنخواہوں کے نظام میں سنگین خامیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں منصوبے سے متعلق مجموعی طور پر 12ارب روپے سے زائد کے ممکنہ مالی نقصانات اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں کا تعلق ادویات اور خاندانی منصوبہ بندی کی اشیاء کی خریداری، ہسپتالوں کی تعمیر، طبی آلات، فرنیچر، شمسی توانائی کے نظام، صفائی کے ٹھیکوں اور ملازمین کی تنخواہوں سے ہے اس سلسلے میں شکایت کنندہ نے ان معاملات کی آزادانہ تحقیقات، خصوصی فارنزک آڈٹ، ممکنہ غیر قانونی ادائیگیوں کی وصولی اور ذمہ داروں کے تعین کیلئے قومی احتساب بیورو سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادویات اور خاندانی منصوبہ بندی کی اشیا ء کی خریداری پر سوالات
اس سلسلے میں آڈٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ منصوبے کے تحت 1.5ارب روپے سے زائد مالیت کی ادویات اور خاندانی منصوبہ بندی کی اشیاء مبینہ طور پر کھلی مارکیٹ سے مسابقتی بولی اور مطلوبہ جانچ پڑتال کے بغیر خریدی گئیں اس معاملے پر 12نومبر 2025کو ہونے والے ایک اجلاس میں منصوبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد بلال خان کی جانب سے غیر مجاز خریداری کا اعتراف کئے جانے کا دعوی بھی کیا گیا تھا یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق بعض سرگرمیاں محکمہ بہبود آبادی کے بجائے منصوبے کے انتظامی یونٹ کے ذریعے کیوں انجام دی گئیں۔
7.8ارب روپے کے تعمیراتی ٹھیکوں میں مبینہ بے ضابطگیاں
منصوبے کے تحت سیلاب سے متاثرہ بنیادی مراکز صحت اور ہسپتالوں کے مختلف حصوں کی تعمیر سے متعلق 9بڑے ٹھیکوں پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں آڈٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ بعض ٹھیکے کم ترین بولی دینے والوں کے بجائے مخصوص کمپنیوں کو دئیے گئے اور قیمتوں کے تعین و تکنیکی شرائط میں مبینہ بے ضابطگیاں کی گئیں ان تعمیراتی منصوبوں میں ممکنہ مالی خطرے یا بے ضابطگیوں کا حجم 7.8ارب روپے تک قرار دیا ہے آڈٹ میں تعمیراتی مواد کی تبدیلی اور بعض تکنیکی شرائط کے ذریعے لاگت بڑھانے کے الزامات بھی شامل ہیںان الزامات کی تصدیق کیلئے اصل ٹینڈر دستاویزات، بولی دہندگان کی فہرست، منظور شدہ تخمینوں، معاہدوں، انجینئرنگ جانچ اور ادائیگیوں کا تقابلی جائزہ لینے کی سفارش کی گئی ہے۔
طبی آلات، فرنیچر اور شمسی توانائی کے نظام کی خریداری
آڈٹ میں ہسپتالوں کیلئے فرنیچر، طبی آلات اور شمسی توانائی کے نظام کی خریداری پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں الزام ہے کہ بعض اشیاء مسابقتی خریداری کے مناسب طریقہ کار کے بغیر حاصل کی گئیں اور ان کی قیمتیں مبینہ طور پر مارکیٹ ریٹ سے کئی گنا زیادہ تھیں خریدے گئے سامان کے معیار پر تحفظات ظاہر کرنے والے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن شعبے کے ایک اہلکار کو مبینہ طور پر دبائو اور ملازمت سے برطرفی کا سامنا کرنے کا دعوی بھی کیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں خریداری کی قیمتوں، تکنیکی معیار، سامان کی وصولی اور متعلقہ اہلکار کے سروس ریکارڈ کی جانچ ضروری ہے رپورٹ میں ممکنہ زائد ادائیگیوں کا حجم 2ارب روپے سے زیادہ بتایا گیا ہے اس طرح نشترآباد جنرل ہسپتال سے متعلق 700ملین روپے سے زائد کے مبینہ مالی معاملات پر بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق بعض طبی آلات کی خریداری کیلئے ضروریات کا تعین درست طور پر نہیں کیا گیا اور قیمتوں میں مبینہ بے ضابطگیاں ہوئیںاسی رپورٹ میں نرسنگ اور معاون عملے کو مبینہ طور پر ہراساں کئے جانے اور جنسی استحصال سے متعلق شکایات دبانے کے الزامات بھی شامل ہیں جبکہ ان معاملات کو صفائی کے ایسے معاہدوں سے جوڑا ہے جن کی مجموعی مالیت 512ملین روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔
آٹو کلیو خریداری کے ٹینڈر پر اعتراض
آڈٹ میں آٹو کلیو نامی طبی جراثیم کشی کے آلے جس کے ساتھ شریڈر بھی شامل بتایا گیا ہے کی خریداری پر بھی اعتراض کیا گیا ہے الزام ہے کہ ایک میعاد ختم ہوچکے ٹینڈر کو دوبارہ فعال کرکے مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچایا گیا اور بعض شرائط کے ذریعے دوسرے بولی دہندگان کو مقابلے سے باہر کیا گیا اس خریداری کے سلسلے میں 3.2ارب روپے کے مالی معاملے کو بے ضابطگیوں سے جوڑا گیا ہے۔
صفائی ٹھیکوں میں 700سے زائد فرضی ملازمین کا دعوی ٰ
آڈٹ رپورٹ میں نگہداشت اور صفائی کے معاہدوں میں مبینہ طور پر 700سے زائد فرضی ملازمین کی موجودگی کا دعوی کیا گیا ہے الزام ہے کہ بعض ملازمین کی تنخواہیں نقد ادا کی جاتی تھیں اور حاضری کا قابل اعتماد ریکارڈ موجود نہیں تھا منصوبے کے ڈائریکٹر، ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر اور خریداری کے ایک ماہر کے بارے میں ماہانہ مبینہ مالی حصے وصول کرنے کے الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں ذرائع نے بتایا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد بلال خان، ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سمیرا سعید اور سابق سیکرٹری صحت شاہداللہ خان کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اسی طرح محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے سیکرٹری عدیل شاہ کے بارے میں دعوی کیا گیا ہے کہ انہیں مارچ سے جون 2025کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں سے آگاہ کیا گیا تھااس کے علاوہ سابق مشیر برائے انسداد بدعنوانی بریگیڈیئر مصدق عباسی اور قومی احتساب بیورو کے ڈائریکٹر جنرل فرمان اللہ کو بھی اس بارے میں آگاہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔