نیتن یاہو ایران کے خلاف ایٹمی حملے کے لیے ٹرمپ پر شدید دباؤ ڈالے ہوئے ہیں، 7 نومبر کی تاریخ انتہائی اہم، امریکی صحافی کا دعویٰ

نیتن یاہو ایران کے خلاف ایٹمی حملے کے لیے ٹرمپ پر شدید دباؤ ڈالے ہوئے ہیں، 7 نومبر کی تاریخ انتہائی اہم، امریکی صحافی کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی تیز کرنے اور مبینہ طور پر جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کا سنسنی خیز دعویٰ سامنے آیا ہے۔

امریکی حکومت کے ممکنہ فیصلے کے لیے7 نومبر کی تاریخ کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب تہران کے ساتھ سفارتی معاہدے کی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم کسی امریکی جوہری حملے کے فیصلے کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔

امریکی مبصر اور صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ایران کی زیرزمین جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے جوہری حملہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران کے خلاف بڑے حملے کی تیاریاں کررہا ہے ، امریکی جریدے کا دعویٰ

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کارلسن کی جانب سے جاری کردہ پوسٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ ایران نے وسطی حصے میں واقع ‘پک ایکس ماؤنٹین‘ کے مقام پر یورینیم افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کردیا ہے۔

ان کے بقول یہ تنصیب انتہائی گہرائی میں زیرزمین سرنگوں میں قائم ہے، جس کے باعث اسے روایتی امریکی ہتھیاروں سے مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہوگا۔

کارلسن نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو اس معاملے پر تقریباً روزانہ ٹرمپ سے رابطہ کرتے ہیں اور انہیں ایران کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

تاہم ان دعوؤں کی حمایت میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع یا اسرائیلی حکومت نے امریکی جوہری حملے کی تیاری سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان کیا ہے۔

300 فٹ گہری گرینائٹ چٹان، زیرزمین جوہری تنصیب کیوں اہم ہے؟

امریکی صحافی نے لکھا ہے کہ ایران کا ‘پک ایکس ماؤنٹین‘ مبینہ طور پر ملک کے اہم جوہری مرکز نطنز کے قریب واقع ایک مضبوط زیرزمین تنصیب ہے، جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ اسے یورینیم افزودگی اور جوہری پروگرام کی بحالی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کارلسن کے مطابق اس مقام پر موجود سرنگیں تقریباً 300 فٹ ٹھوس گرینائٹ چٹان کے نیچے ہیں، جس کی وجہ سے امریکی روایتی بنکر شکن بموں کی مدد سے وہاں تک پہنچنا انتہائی مشکل ہے۔
مزید پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی میں نیا موڑ، ایرانی وفد نیویارک سے روانہ، خطے میں امریکی بحری بیڑے بڑھنے لگے

ان کا مؤقف ہے کہ امریکی فوج کے روایتی ہتھیار اس گہرائی میں موجود تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اسی لیے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا خطرناک آپشن زیر بحث آسکتا ہے۔

نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات اور ایران جنگ کا معاملہ

کارلسن کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کے حوالے سے شدید دباؤ کا شکار ہیں اور حالیہ انتخابی نتائج کے بعد حکومت بنانے کے لیے انہیں پارلیمان میں61  نشستوں کی حمایت درکار ہے۔

ان کے مطابق نیتن یاہو کو خدشہ ہے کہ اگر وہ حکومت برقرار رکھنے میں ناکام رہے تو انہیں وزارت عظمیٰ سے الگ ہونا پڑسکتا ہے، جس کے بعد انہیں سیاسی بدنامی، تحقیقات اور ممکنہ قید جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کارلسن کا دعویٰ ہے کہ اسی سیاسی صورتحال کے باعث نیتن یاہو ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلق برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور ایران کے خلاف جنگ کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔

ان کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی انتظامیہ میں اپنے قریبی سمجھے جانے والے عہدیداروں، جن میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر شامل ہیں، پر بھی دباؤ ڈالا ہے۔

کارلسن کے مطابق یہ دونوں عہدیدار ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرنے کے مخالف ہیں اور بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے حامی ہیں۔

اسی طرح وزیر خارجہ مارکو روبیو اور امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کے مؤقف کے قریب ہیں۔

تاہم امریکی انتظامیہ کے ان عہدیداروں کے متعلق بیان کردہ مؤقف کی بھی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اوباما اور ڈیموکریٹک قیادت کے حوالے سے بھی دعویٰ

کارلسن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت اور سابق صدر باراک اوباما کا بھی ذکر کیا ہے۔

ان کے مطابق ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں اور ممکنہ امن معاہدے سے متعلق ایک حالیہ اجلاس میں سابق امریکی صدر باراک اوباما نے دوحہ میں تیار کیے جانے والے ایران امن معاہدے کی موجودہ شکل کی مخالفت کی۔

کارلسن کا دعویٰ ہے کہ امریکی سیاست میں دونوں بڑی جماعتوں کے بعض رہنما بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے بجائے فوجی دباؤ کی پالیسی کے حامی ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے ایران پر مزید حملے کی حمایت سے انکار کردیا؟

کارلسن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کے روایتی اتحادی بھی ایران کے خلاف مزید جنگ کے امکانات سے شدید خوفزدہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان، قطر اور سعودی عرب کی کوششیں رنگ لے آئیں، امریکا ایران معاہدہ آج متوقع، امریکی میڈیا کا دعوی

ان کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو نے 27 ستمبر کو خفیہ طور پر ابوظہبی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے متحدہ عرب امارات کو ایران کے خلاف آخری اور فیصلہ کن حملے کے لیے اپنے سفارتی دباؤ کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔

تاہم کارلسن کے مطابق اماراتی قیادت نے اس کوشش کی حمایت سے انکار کردیا۔

ان کے بقول خلیجی ممالک کی معیشتیں پہلے ہی تقریباً 8 ماہ سے جاری تنازع کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ توانائی اور کھاد کی عالمی منڈیوں پر بھی اس جنگ کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان کی بحالی میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے خلاف کسی نئی بڑی فوجی کارروائی کے اثرات صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خلیجی خطے کی معیشت، تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔

آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کو نقصان، عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی

کارلسن نے اپنے بیان میں عالمی توانائی کی ترسیل کو درپیش خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے تقریباً 850 بڑے آئل ٹینکرز استعمال ہوتے ہیں، جو تیل پیدا کرنے والے ممالک سے عالمی منڈیوں تک خام تیل پہنچاتے ہیں۔

کارلسن کا دعویٰ ہے کہ صرف اکتوبر کے مہینے میں آبنائے ہرمز میں 11 بڑے آئل ٹینکرز کو شدید نقصان پہنچا۔

ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عالمی تیل کی ترسیل کا نظام مزید متاثر ہوسکتا ہے اور دنیا کو شدید معاشی بحران بلکہ عالمی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس آبی گزرگاہ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔

 یہاں کسی بھی طویل فوجی تصادم، بحری ناکہ بندی یا تجارتی جہازوں پر حملوں کے نتیجے میں عالمی توانائی کی قیمتوں، مال برداری اور صنعتی پیداوار پر فوری اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ایسے حالات میں ایران پر جوہری حملہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں رہے گا بلکہ اس کے معاشی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

جوہری حملے سے خلیج فارس کے پانی کو آلودگی کا خطرہ

کارلسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے پک ایکس ماؤنٹین پر زمین کے قریب یا زیرزمین جوہری دھماکا کیا تو اس کے اثرات انتہائی تباہ کن ہوسکتے ہیں۔

ان کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تابکار آلودگی خلیج فارس تک پھیل سکتی ہے، جس سے تقریباً 100 ملین افراد کے پانی کے ذخائر اور پینے کے پانی کی فراہمی خطرے میں پڑسکتی ہے۔

جوہری دھماکے کے بعد تابکار ذرات فضا، زمین اور پانی میں پھیل سکتے ہیں۔ زیرزمین دھماکے کی صورت میں بھی اگر تابکار مواد سطح زمین تک پہنچ جائے تو انسانی صحت، زراعت، سمندری حیات اور قدرتی ماحول کو طویل المدتی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

خلیج فارس کے گرد واقع ممالک کی آبادی، ساحلی صنعتیں، سمندری تجارت اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ خطے کے کئی ممالک پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سمندر کے پانی کو صاف کرنے کے نظام پر انحصار کرتے ہیں۔

تاہم کسی مخصوص جوہری حملے کے نتیجے میں تابکاری کتنی دور تک پھیلے گی، اس کا انحصار دھماکے کی نوعیت، مقام، موسمی حالات اور دیگر سائنسی عوامل پر ہوگا۔ اس لیے 100 ملین افراد کے پانی کو لازماً آلودہ ہونے کا دعویٰ ایک ممکنہ خطرے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

امریکی جوہری حملے سے تیسری عالمی جنگ کا خدشہ

کارلسن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سب سے سنگین خدشہ یہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی جوہری ہتھیاروں کا استعمال دنیا بھر میں جوہری جنگ کے نئے دور کا آغاز کرسکتا ہے۔

ان کے مطابق اب تک جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے والا واحد ملک امریکہ رہا ہے۔ اگر واشنگٹن ایران کے خلاف دوبارہ جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو عالمی سیاست اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے ایک خطرناک مثال قائم ہوجائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان، قطر اور سعودی عرب کی کوششیں رنگ لے آئیں، امریکا ایران معاہدہ آج متوقع، امریکی میڈیا کا دعوی

کارلسن کا دعویٰ ہے کہ روس پہلے ہی کم از کم 2 حکومتوں کو یہ پیغام دے چکا ہے کہ اگر امریکا ایران پر جوہری حملہ کرتا ہے تو ماسکو کے لیے یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان اور بھارت بھی ایک دوسرے کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے دباؤ یا ترغیب کا شکار ہوسکتے ہیں، جبکہ شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کو نشانہ بنانے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

یہ تمام امکانات عالمی سلامتی کے لیے انتہائی تشویش ناک ہیں، کیونکہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتا۔

جوہری پالیسی میں تبدیلی اور ‘بیٹل فیلڈ نیوکلیئر ویپنز‘ کا معاملہ

کارلسن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ رواں سال فروری سے خاموشی کے ساتھ اپنی جوہری پالیسی میں تبدیلیاں کررہی ہے، جن کا مقصد میدان جنگ میں استعمال ہونے والے محدود طاقت کے جوہری ہتھیاروں، یعنی ‘بیٹل فیلڈ نیوکلیئر ویپنز‘ کے پہلے استعمال کی راہ آسان بنانا ہے۔

ان کے مطابق اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال کی حد کم ہونے سے مستقبل میں جوہری جنگ کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ محدود پیمانے پر استعمال ہونے والے جوہری ہتھیار بھی تابکاری، انسانی ہلاکتوں اور ماحولیاتی تباہی کے سنگین خطرات رکھتے ہیں۔

جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی کوئی بھی نئی پالیسی عالمی سطح پر دیگر جوہری طاقتوں کے فیصلوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ اسی لیے جوہری عدم پھیلاؤ اور ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

کارلسن کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس مبینہ تبدیلی پر خاطر خواہ تشویش ظاہر نہیں کی جارہی۔

7 نومبر تک ٹرمپ کے فیصلے کا امکان، جوہری حملے پر تذبذب کا دعویٰ

کارلسن کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے کے اختتام تک یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کیے جائیں یا نہیں۔

انہوں نے اس حوالے سے 7 نومبر کی تاریخ کا ذکر کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ فی الحال اس انتہائی خطرناک اقدام پر تذبذب کا شکار ہیں۔

کارلسن کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور قریبی دوست اسٹیو وٹکوف صدر کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ممکن ہے اور فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں عہدیدار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کوئی نہ کوئی قابلِ عمل معاہدہ طے کیا جاسکتا ہے، اگرچہ یہ عمل آسان نہیں ہوگا۔

ایران کے ساتھ مذاکرات مشکل، مگر معاہدے کا امکان موجود

کارلسن نے ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت تاریخی طور پر مذاکرات میں سخت مؤقف اختیار کرتی رہی ہے۔

ان کے مطابق طویل عرصے کی عالمی تنہائی اور مغربی ممالک کے ساتھ کشیدگی نے ایرانی قیادت کے بعض حلقوں میں مغربی سیاسی نظام اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کے حوالے سے بداعتمادی پیدا کردی ہے۔

کارلسن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فروری میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے افراد کی شہادت کے بعد ایرانی حکومت کے بعض عناصر پہلے سے زیادہ سخت گیر ہوگئے ہیں۔

ان کے مطابق تہران میں ایک عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکی حکومت اسرائیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسرائیل کے فیصلوں میں واشنگٹن کا کردار غیر معمولی ہے۔

اس کے باوجود کارلسن کا کہنا ہے کہ ایران میں فیصلہ سازی سے وابستہ اہم حلقوں سے رابطہ رکھنے والے افراد کے مطابق وہاں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ مزید جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور امریکا کے ساتھ کسی قابلِ عمل معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے۔

دوسری جانب دوحہ میں ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ علاقائی ثالثی کے ذریعے مذاکرات کی بحالی کو فوجی تصادم روکنے کا اہم راستہ سمجھا جارہا ہے۔

ٹرمپ کے سامنے دو راستے، جنگ یا سفارت کاری؟

موجودہ صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دو بنیادی راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ پہلا راستہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑی فوجی کارروائی شروع کرنا ہے، جبکہ دوسرا راستہ سفارتی مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

امریکی صدر پہلے بھی ایران کی زیرزمین جوہری تنصیب پک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے کی بات کرچکے ہیں، تاہم انہوں نے 16 اکتوبر کو ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں اور وہ ایسا نہیں کریں گے۔

مزید پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی،پاکستان مذاکرات کی بحالی کے لیے پھر متحرک ، اسحاق ڈار کے اہم رابطے

یکم نومبر کو بھی انہوں نے ایران کی ایک یا دو باقی ماندہ تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا ذکر کیا، لیکن ان بیانات میں جوہری حملے کی منظوری کا کوئی اعلان شامل نہیں تھا۔

اس تناظر میں جوہری حملے کے خدشے اور روایتی فوجی کارروائی کے امکانات کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔

عالمی عوام کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کی اپیل

کارلسن نے اپنے بیان کے اختتام پر ایک اہم سوال اٹھایا ہے کہ ایران جنگ اور ممکنہ جوہری حملے کے حوالے سے اب تک دنیا کی عام آبادی کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔

ان کے مطابق دنیا کے کروڑوں افراد اور ان کے بچوں کی زندگیاں ایسے فیصلے کے نتائج سے متاثر ہوسکتی ہیں جس میں ان کی کوئی براہ راست نمائندگی نہیں۔

انہوں نے عالمی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اس ممکنہ تباہی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں، کیونکہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

Related Articles