خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں تیز ہوگئی ہیں، شمالی وزیرستان کے علاقے عیدک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 7 خوارج کو ہلاک کردیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق عیدک کے علاقے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا، جس میں فورسز نے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ان کے ٹھکانوں کا تعاقب کیا۔ کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 7 دہشتگرد مارے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران پیشہ ورانہ مہارت اور بھرپور جنگی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ کارروائی کے نتیجے میں خوارج کے متعدد مراکز اور پناہ گاہیں تباہ کردی گئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جس کا مقصد دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں، نقل و حرکت اور نیٹ ورک کو نشانہ بنانا ہے۔
حالیہ دنوں میں بھی شمالی وزیرستان اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں ایسی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ 30 ستمبر کو میر علی، شمالی وزیرستان میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3 دہشتگردوں کی ہلاکت اور اسلحہ و گولہ بارود کی برآمدگی کی اطلاع دی گئی تھی۔
اس سے قبل خیبر پختونخوا کے علاقے باڑہ میں بھی سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 5 دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مارے گئے دہشتگردوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق عیدک میں کارروائی کا مقصد دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور نقل و حرکت کے نیٹ ورک کو توڑنا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کی مسلسل کارروائیوں سے خوارج کے لیے علاقے میں محفوظ ٹھکانے قائم رکھنا مشکل بنایا جارہا ہے اور ان کی نقل و حرکت کو محدود کیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں انٹیلی جنس معلومات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جس کی بنیاد پر مخصوص مقامات اور مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عزمِ استحکام کے وژن کے تحت فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی یکم اکتوبر کو کہا تھا کہ پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور افغانستان سے آنے والی دہشتگردی کے جواب میں ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
یوں شمالی وزیرستان کے عیدک میں 7 خوارج کی ہلاکت کی کارروائی کو خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے تسلسل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کا ہدف دہشتگردوں کے ٹھکانوں، نیٹ ورک اور نقل و حرکت کو مسلسل نشانہ بنا کر علاقے میں ان کی سرگرمیوں کی گنجائش محدود کرنا اور پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔