کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع ایک پلازہ میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کال سینٹر کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 274 افراد کو گرفتار کرلیا،گرفتار ہونے والوں میں 100 خواتین اور 42 نوعمر لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں، کارروائی کے دوران 339 لیپ ٹاپ برآمد کرکے پورے نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شہزاد اکبر کے مطابق کال سینٹر میں کام کرنے والے افراد مختلف ناموں سے جعلی اکاؤنٹس اور شناختیں بنا کر لوگوں کو مالی فراڈ کا نشانہ بناتے تھے، ملزمان جعلی آئی ڈیز کے ذریعے بالخصوص غیرملکی شہریوں کو لوٹتے تھے، جبکہ مقامی افراد بھی ان کے فراڈ سے محفوظ نہیں تھے۔
پورے نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں کمپیوٹر آلات قبضے میں لیے گئے، جن میں 339 لیپ ٹاپ شامل ہیں، گرفتار افراد میں تقریباً 100 خواتین اور 42 ٹین ایجرز بھی شامل ہیں، جنہیں مبینہ طور پر فراڈ کے اس نیٹ ورک میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی مذکورہ کمپنی کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے، تاہم کارروائی کے بعد دوبارہ سرگرمیاں شروع کردی گئی تھیں۔ اس مرتبہ صرف مالکان کے بجائے پورے نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
کراچی میں 350 تک اسکیمنگ کال سینٹرز سرگرم ہونے کا انکشاف
سائبر کرائم حکام کے مطابق کراچی میں 300 سے 350 تک اسکیمنگ کال سینٹرز کام کر رہے ہیں، جن کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور روایتی جرائم بھی اب ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے انجام دیے جا رہے ہیں۔
سائبر جرائم کی کوئی جغرافیائی حدود نہیں ہوتیں اور مجرم جعلی شناخت کے ذریعے اپنی اصل شناخت چھپا کر لوگوں کے بینک اور دیگر مالی اکاؤنٹس خالی کردیتے ہیں، کسی دوسرے شخص کی شناخت اختیار کرکے مالی فراڈ کرنا سنگین غیرقانونی عمل ہے۔
ڈارک ویب سے متعلق کارروائیوں کا بھی ذکر
سائبر کرائم حکام نے بتایا کہ چند روز قبل ڈارک ویب سے متعلق ایک کارروائی میں متاثرہ بچی کو بازیاب کرایا گیا تھا، جبکہ حالیہ عرصے میں دیگر اہم کارروائیاں بھی کی گئی ہیں،حکام کے مطابق سائبر کرائم کے مقدمات تکنیکی نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے ان کی تحقیقات میں ڈیجیٹل شواہد، جعلی شناختوں اور مالی لین دین کے طریقہ کار کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ کراچی میں سرگرم اسکیمنگ کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور شہریوں سمیت غیرملکی افراد کو مالی دھوکا دہی سے بچانے کے لیے پورے نیٹ ورک کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔