عوامی فنڈز پر پی ٹی آئی کا ڈاکہ،1224 بوگس منصوبوں کا  کچا چٹھا  کھل گیا،چھان بین شروع

عوامی فنڈز پر پی ٹی آئی کا ڈاکہ،1224 بوگس منصوبوں کا  کچا چٹھا  کھل گیا،چھان بین شروع

خیبرپختونخوا حکومت نے پی ٹی آئی کے سابق دورِ اقتدار میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں شامل کی گئی 1224 ترقیاتی اسکیموں کی چھان بین شروع کردی، متعلقہ فورمز سے منظوری حاصل نہ کرنے والے منصوبے ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اسپیکر بابر سلیم کے حلقوں کی اسکیمیں بھی جائزے کے دائرے میں آگئیں۔

  ذرائع کے مطابق سابق حکومت کے دور میں صوبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 1224 نئی اسکیمیں شامل کی گئی تھیں، جن کی مجموعی تخمینہ لاگت ایک ہزار 348 ارب روپے تھی، جبکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں ان منصوبوں کے لیے 107 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

غیر منظور شدہ اسکیموں پر حکومت کا بڑا فیصلہ

  ذرائع کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور جن اسکیموں کو متعلقہ سرکاری فورمز سے تاحال منظوری نہیں مل سکی، انہیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےاس عمل کے تحت منصوبوں کی قانونی منظوری، مالی ضروریات اور عملی افادیت کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ ترقیاتی بجٹ کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی کا اقتدارمیں واپسی کا خواب پورا نہیں ہوگا، 13 سالہ دورِ حکومت کا حساب دینا پڑے گا،امیر مقام

وزیراعلیٰ اور اسپیکر کے حلقے بھی زیرِ جائزہ

چھان بین کے لیے زیرِ غور منصوبوں میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم کے حلقوں میں شامل ترقیاتی اسکیمیں بھی شامل ہیں اس طرح حکومتی عہدے داروں کے حلقوں کے منصوبے بھی مجموعی جائزے سے مستثنیٰ نہیں ہوں گے۔

سیاسی اثر و رسوخ قبول نہیں ہوگا، ثمر ہارون بلور

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تمام ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس عمل میں کسی قسم کا سیاسی اثر و رسوخ قبول نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ چھان بین کے بعد بعض ترقیاتی منصوبوں پر نظرثانی کی جائے گی، جبکہ کچھ اسکیموں کو موجودہ حالت میں برقرار رکھا جائے گا تمام فیصلے انفرادی طور پر ہر منصوبے کی افادیت اور میرٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

حکومت کے اس اقدام کے نتیجے میں سابق دور میں شامل کیے گئے سینکڑوں ترقیاتی منصوبوں کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا، جبکہ غیر منظور شدہ اور نظرثانی کے محتاج منصوبوں کے حوالے سے بھی واضح پالیسی سامنے آئے گی۔

editor

Related Articles