مجوزہ آئینی ترمیم میں چیف جسٹس کےتقرر کے حوالے سے تجویز دی گئی ہے کہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کا تقرر کیا جائیگا۔
پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے تین سینیئر ترین ججز میں سے چیف جسٹس کا تقرر کرے گی اورکمیٹی کی سفارش پر چیف جسٹس کا نام وزیراعظم صدر مملکت کو بھجوائیں گے ۔ آئینی ترمیم میں پیش تجاویز میں کہا گیا ہے کہ کسی جج کے انکار کی صورت میں اگلے سینیئر ترین جج کا نام زیر غور لایا جائے گا اورچیف جسٹس کے تقرر کے لیے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مخصوص نشستوں کا کیس :سپریم کورٹ کے اکثریتی 8 ججز کی دوسری مرتبہ وضاحت جاری
آئینی ترمیم میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کی متناسب نمائندگی ہوگی اورپارلیمانی کمیٹی میں 8 ارکان قومی اسمبلی چار ارکان سینٹ ہوں گے۔ آئینی ترمیم میں چیف جسٹس کی مدت ملازمت کے حوالے سے تجویز دی گئی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت تین سال ہوگی اورچیف جسٹس کے لیے عمر کی بالائی حد 65 سال مقرر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ آرٹیکل 184 تین کے تحت سپریم کورٹ اپنے طور پر کوئی ہدایت یا ڈیکلریشن نہیں دے سکتی ، آئینی ترمیم میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ آرٹیکل 186 اے کے تحت سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے کسی بھی کیس کو کسی دوسری ہائی کورٹ یا اپنے پاس منتقل کر سکتی ہے اورججز تقرری کمیشن ہائی کورٹ کے ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

