اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایف 14 اور ایف 15 میں ججز اور بیوروکریٹس کے پلاٹس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس عائشہ ملک کا تحریر کردہ 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا۔ جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 22 نومبر 2022 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پلاٹس سے متعلق جو نظرثانی شدہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا، وہ پالیسی ہائی کورٹ میں چیلنج ہی نہیں کی گئی تھی۔
عدالت نے مزید کہا کہ اس پالیسی پر نہ تو دلائل دیے گئے اور نہ ہی وفاقی حکومت کو سنا گیا۔ سپریم کورٹ نے جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اختیارات سے تجاوز قراردیکر کہا کہ ہائی کورٹ نے فیصلے میں اشرافیہ کے وسائل پر قبضے اور ججز پلاٹس کا ذکر کیا، حالانکہ یہ کیس اس کے سامنے نہیں تھا۔
عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو آئین اور قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اپنے دائرہ اختیار کو وسعت نہیں دے سکتیں، اور نہ ہی آئین یا قانون ایسا اجازت دیتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے توفیق آصف کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ ایسی ریلیف نہیں دے سکتی جو درخواست میں مانگی نہ ہو۔ سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ اس فیصلے کے بعد تمام فریقین کو سنے اور 90 دنوں کے اندر فیصلے کی مصدقہ نقل کے بعد اپیل پر فیصلہ کرے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا رٹ پٹیشن بھی بحال کی جاتی ہے اور اس کیس میں متاثرہ فریقین کو فریق بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔