خیبر پختونخوا کے عوام نے انتشاری مارچ مسترد کردیا، قیادت ناکامی چھپانے کے لئے اے آئی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے میں مصروف، آزاد ڈیجیٹل حقائق سامنے لے آیا

خیبر پختونخوا کے عوام نے  انتشاری  مارچ   مسترد کردیا،  قیادت ناکامی چھپانے کے لئے  اے آئی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے میں مصروف، آزاد ڈیجیٹل حقائق سامنے لے آیا

خیبر پختونخوا کے عوام کی جانب سے تحریک انصاف کے انتشاری مارچ کو مسترد کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، باخبر ذرائع کے مطابق مارچ میں شریک کارکنوں کی کل تعداد 2 سے 3 ہزار کے قریب ہے جبکہ رات کے وقت یہ تعداد 300 سے زائد نہیں رہتی، دوسری جانب تحریک انصاف کی قیادت اپنی نااہلی اور ناکامی کو چھپانے کے لیے اے آئی سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے کارکنوں کو بے وقوف بنانے میں مصروف ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا احتجاج تیسرے روز میں داخل ہوگیا ہے اور لانگ مارچ کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے حامی اکاؤنٹس کی جانب سے احتجاج کے بڑے اجتماع کو ظاہر کرنے کے لیے ایک ویڈیو فوٹیج استعمال کی جارہی ہے، تاہم فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ فوٹیج مصنوعی ذہانت (اے آئی )  سے تیار کردہ ہے اور اصل نہیں۔

رپورٹ کے مطابق آن گراؤنڈ صحافیوں سے رابطے کے بعد معلوم ہوا کہ کوہاٹ کے لاچی گراؤنڈ میں تقریباً 1500 افراد موجود تھے، جبکہ خیمہ بستی میں تقریباً 300 افراد آئے تھے۔ رات کے وقت خیمہ بستی میں تقریباً 300 سے 400 افراد موجود رہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی قیادت کمپرومائزڈ،معاہدے میں خان بیچ دیا،تحریک انصاف کا سوشل میڈیا قائدین پرٹوٹ پڑا

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سہیل آفریدی رات کے وقت کہاں قیام پذیر رہے، اس بارے میں معلومات سامنے نہیں آئیں، جبکہ ان کے ساتھ آنے والا تمام مجمع بھی لاچی گراؤنڈ یا کنٹینر کے اندر موجود نہیں تھا۔

لانگ مارچ نے دوپہر 12 بجے لاچی گراؤنڈ سے روانہ ہوکر کوہاٹ کے یونیورسٹی چوک پہنچنا تھا، جہاں سہیل آفریدی نے خطاب کرنا تھا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی چوک پر تقریباً 2 ہزار افراد استقبال کے لیے موجود تھے، جبکہ سہیل آفریدی کے پہنچنے پر ان کے ساتھ 2500 سے 3  ہزار افراد کا مجمع موجود تھا۔

ذرائع کے مطابق مارچ کے شرکا  کی تعداد وقت کے ساتھ کم یا زیادہ ہوسکتی ہے اور رات کے وقت افراد کی تعداد کم ہوجاتی ہے۔ تحریک انصاف کے 126 دن کے دھرنے کے دوران بھی رات کے وقت افراد کی تعداد کم اور دن کے وقت زیادہ ہوجاتی تھی، کیونکہ لوگ سرگرمی دیکھنے کے بعد اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے تھے۔

لانگ مارچ کے پشاور پہنچنے کے بعد شرکا کی تعداد میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، کیونکہ پشاور ایک بڑا شہری مرکز ہے۔

رپورٹ کے مطابق شفی جان کی جانب سے 20 ہزار افراد کے لیے رہائش کے انتظامات کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی، تاہم فراہم کردہ موجودہ تعداد اس سے کہیں کم بتائی گئی ہے۔

دوسری جانب کشمیر چوک انڈر پاس کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن سے لانگ مارچ اور دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی قیادت کارکنوں کا ماموں بنانے کے لئے جھوٹے اور من گھڑت پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کرنے لگی

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی دھرنوں کی سیاست ترک کرے، آج آپ لانگ مارچ اور دھرنا ختم کریں تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ بیٹھیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا پہلا نشانہ معیشت ہوگی۔ میکرو اکنامک استحکام بہت مشکل سے حاصل ہوا ہے، کیا ترقی کے پہیے کو دوبارہ جام کرنا ملک دشمنی نہیں؟

انہوں نے کہا کہ ڈھائی سال کی محنت اور ٹیم ورک سے معیشت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف ملکی ترقی اور خوشحالی کا عمل جاری ہے، جبکہ احتجاج کے باعث برآمدات، درآمدات اور مینوفیکچرنگ کا عمل متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مزدور اور انجینئر وقت پر کارخانوں اور دفاتر نہ پہنچیں تو نقصان پاکستان کا ہوگا۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا جبکہ جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔

Related Articles