سندھ حکومت نے مرحوم ملازمین کی اولاد کے لیے مختص فوتگی کوٹے کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
سندھ کابینہ نے سپریم کورٹ کے احکام کی روشنی میں فوتگی کوٹہ ختم کرنے کی منظوری دیدی۔ فوتگی کوٹہ کے تحت مزید بھرتیوں کی اجازت نہ دینے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
سندھ کے سرکاری محکموں میں اب مرحوم ملازمین کی اولاد کو خصوصی بھرتیوں کا موقع نہیں ملے گا۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے صوبے میں سرکاری طور پر کوٹہ کی بنیاد پر ملازمتوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے تمام سرکاری محکموں کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ آئندہ تمام بھرتیاں اوپن میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی۔ خیبر پختونخوا حکومت نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے کوٹہ تقرریوں کے رواج کے خلاف فیصلے پر عمل درامد کرتے ہوئے کیا ہے، کے پی حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ میرٹ کے بغیر کی گئی کسی بھی تقرری کو غیر آئینی سمجھا جائے گا۔
تاہم نئی پالیسی سے دہشت گردی کے واقعات میں جانیں گنوانے والے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور سرکاری ملازمین کے اہل خانہ کے لیے معاوضے کے پیکجز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس فیصلے کےنتیجے میں مرنے والے سرکاری ملازمین کے بچے اب خود بخود ملازمتوں کے اہل نہیں رہیں گے۔
یہ ترمیم بھرتی کے عمل کو ہموار کرنے اور صوبے بھر میں میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی تھی۔
ترمیم میں قاعدہ 17-A کو ختم کیا گیا ہے، جو پہلے مرنے والے سرکاری ملازمین کے خاندان کے افراد بشمول میاں بیوی اور بچوں کو نوکریوں کا دعویٰ کرنے کی اجازت دیتا تھا۔