کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پولیو ویکسین کے انکار کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ویکسین کا انکار کسی صورت منظور نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 3 تا 9 فروری 2025ء کو شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں تیاریوں کا جائزہ لیا اور اجلاس میں شریک تمام اسٹیک ہولڈرز سے مکمل تعاون کی درخواست کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پولیو کے حوالے سے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 2024ء میں پاکستان میں 73 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 22 کیسز سندھ میں ریکارڈ کیے گئے۔ انہوں نے بالخصوص کراچی اور دیگر شہری علاقوں میں پولیو کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی کے 96 فیصد گھروں میں دسمبر 2024 کی انسداد پولیو مہم کی کوریج ہوئی، جبکہ سندھ کے دیگر علاقوں جیسے حیدرآباد، لاڑکانہ اور سکھر میں 100 فیصد کوریج فراہم کی گئی۔ تاہم، 244233 بچے پولیو قطرے لینے سے رہ گئے، جن میں سے 197902 بچے گھروں میں موجود نہیں تھے اور 46331 نے پولیو ویکسین لینے سے انکار کیا
وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ جس ضلع میں پولیو کے قطرے پلانے سے بچے رہ جائیں، وہاں کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2025ء کا سال پولیو کیسز پر قابو پانے کا سال ہونا چاہیے اور ہر بچے کو پولیو ویکسین یقینی طور پر پلانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی مکمل ذمہ داری ہو گی۔
اجلاس میں پولیو کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا، اور فرنٹ لائن ورکرز کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات بھی کیے جانے کی بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پولیو وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کا خاتمہ سندھ کی اولین ترجیح ہے اور اس کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو چیف سیکریٹری کے ذریعے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی طور پر انسداد پولیو مہم کی نگرانی کریں اور تمام محکمہ صحت کے افسران کو روزانہ کی بنیاد پر مہم میں فعال شمولیت کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ میں پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا مکمل تعاون درکار ہے