فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز (فپواسا) نے سندھ کی تمام سرکاری جامعات میں 3 اور 4 فروری کو کلاسز کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا۔
فپواسا کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سندھ یونیورسٹیز ایکٹ میں مشاورت کے بغیر یک طرفہ ترامیم کی جارہی ہیں جو کہ جامعات کی خودمختاری کو ختم کرنے کی سازش ہے اور اس سے بنیادی اقدار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔جمعے کے روز سندھ اسمبلی نے جامعات میں تقرریوں سے متعلق ایک ترمیمی بل منظور کیا تھا جس کے بعد وائس چانسلر کے عہدے کے لیے بیوروکریٹس بھی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔
بل کے مطابق وائس چانسلر کے امیدوار کے لیے پی ایچ ڈی کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے، جس سے اب ایم اے پاس افراد بھی اس اہم عہدے پر تعینات ہو سکیں گے۔ فپواسا نے اس ترمیم کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جامعات کی خودمختاری متاثر ہوگی اور تعلیمی معیار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
سندھ اسمبلی میں اس بل کے حق میں حکومت اور کچھ دیگر جماعتوں نے حمایت کی جبکہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی نے اس ترمیمی بل کی سخت مخالفت کی تھی۔ دونوں جماعتوں کا کہنا تھا کہ اس ترمیم سے تعلیمی معیار پر منفی اثر پڑے گا اور بیوروکریٹس کے ذریعے تعلیمی اداروں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔
فپواسا کی جانب سے کلاسز کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد سندھ کی مختلف جامعات میں اس بل کے خلاف احتجاجی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔