ایران میں امریکی ڈالر سمیت غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ، بڑھتی ہوئی قدر کے ساتھ ایک ڈالر دو لاکھ 60 ہزار تومان کے قریب پہنچ گیا ہے۔
غیر ملکی کرنسیوں اور سونے کی لمحہ بہ لمحہ قیمتیں جاری کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق دیگر کرنسیوں کے نرخ بھی بڑھے ہیں، اور ان میں روزانہ کی بنیاد پر مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یورو کی قدر میں بھی اضافہ
یورو کی قیمت میں چار ہزار تومان کا اضافہ ہوا اور وہ دو لاکھ 90 ہزار تومان پر ٹریڈ ہوا۔ یہ مسلسل اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے مرکزی بینک نے مارکیٹ میں دو ارب ڈالر مالیت کے نوٹ فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
مرکزی بینک کا منصوبہ
ایران کے مرکزی بینک کے مطابق پہلے مرحلے میں ایک ارب ڈالر ملک بھر میں منتخب بینک شاخوں اور ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے مارکیٹ میں لائے جائیں گے تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران ایران کی قومی کرنسی کی قدر میں مزید کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ صورتحال امریکا کے اقتصادی دباؤ کے منصوبے کے آغاز اور ایران کے خلاف جاری بحری محاصرے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کا سب سے زیادہ اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے جب غیر ملکی کرنسی مہنگی ہوتی ہے تو درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور روزمرہ کے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے، ایسے حالات میں لوگ اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کے لیے ڈالر اور سونے کی طرف رجوع کرتے ہیں، جس سے مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔