زحل کے برفیلے چاند پر زندگی؟ لیبارٹری تجربے نے نئی امید جگادی

زحل کے برفیلے چاند پر زندگی؟ لیبارٹری تجربے نے نئی امید جگادی

سائنسدانوں نے زحل کے برفیلے چاند انسیلاڈس کے زیر سطح سمندر جیسے ماحول کو لیبارٹری میں تیار کرکے ایک اہم تجربہ کیا ہے۔ اس مصنوعی ماحول میں زمین پر پائے جانے والے ایک جرثومے کو نہ صرف زندہ رکھنے بلکہ اس کی افزائش میں بھی کامیابی حاصل ہوئی۔

جرمنی میں ہونے والی تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے انسیلاڈس کی برفانی سطح کے نیچے موجود ممکنہ سمندری ماحول کی نقل تیار کی۔ اس کے لیے پانی، نمکیات، کاربونیٹس اور چٹان کے ذرات استعمال کیے گئے تاکہ انسیلاڈس کے انتہائی الکلائن سمندر اور اس کی تہہ میں ہونے والے کیمیائی عمل سے مشابہ ماحول بنایا جاسکے۔

اس ماحول میں میتھینو تھرمو کوکس اوکینا وینسس نامی جرثومہ شامل کیا گیا۔ یہ جرثومہ زمین پر گہرے سمندر میں موجود ہائیڈرو تھرمل وینٹس کے قریب پایا جاتا ہے۔ حیران کن طور پر انتہائی سخت مصنوعی ماحول میں بھی یہ جرثومہ زندہ رہا اور اس میں افزائش بھی دیکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:گوگل کا طاقتور ترین اے آئی ماڈل متعارف، سائبر سکیورٹی میں بھی ماہر

انسیلاڈس سائنسدانوں کے لیے اہم کیوں ہے؟

انسیلاڈس کو نظام شمسی میں زمین سے باہر زندگی کی تلاش کے لیے اہم مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ناسا کے کیسینی خلائی مشن نے انسیلاڈس کی برفانی سطح کے نیچے ایک وسیع نمکین سمندر کی موجودگی کے شواہد حاصل کیے تھے۔ مشن کے دوران نامیاتی مرکبات اور ہائیڈروجن کی موجودگی کے آثار بھی ملے، جبکہ چاند کی سمندری تہہ میں ہائیڈرو تھرمل سرگرمی کے امکانات بھی سامنے آئے۔

انسیلاڈس کی سب سے دلچسپ خصوصیت اس کے جنوبی قطب کے قریب موجود دراڑیں ہیں، جہاں سے پانی کے بخارات اور برف کے ذرات کے بڑے فوارے خلا میں خارج ہوتے ہیں۔

کیسینی خلائی جہاز ان فواروں کے درمیان سے گزر کر ان کے مواد کا تجزیہ بھی کرچکا ہے، جس سے سائنسدانوں کو چاند کے اندر موجود سمندر کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئیں۔

کیا انسیلاڈس پر واقعی زندگی موجود ہے؟

سائنسدانوں نے واضح کیا ہے کہ اس تجربے سے انسیلاڈس پر زندگی کی موجودگی ثابت نہیں ہوتی۔ تحقیق میں زمین پر ارتقا پانے والے جرثومے کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ انسیلاڈس پر کبھی زندگی خود بخود وجود میں آئی یا نہیں۔

تاہم تجربے سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ انسیلاڈس کے ممکنہ سمندری ماحول میں بعض زمینی جرثوموں کے لیے زندگی کے قابل حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ایک الگ تحقیق میں یہ امکان بھی سامنے آیا ہے کہ سمندر میں موجود مختلف مواد برف جمنے کے دوران مخصوص برفانی ذرات میں محفوظ ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے انسیلاڈس پر حیاتیاتی نشانات تلاش کرنا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔

یوں انسیلاڈس ایک بار پھر سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ اس کی برف کے نیچے موجود سمندر میں زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اور ماحولیاتی حالات کے امکانات مسلسل تحقیق کا موضوع بن رہے ہیں۔

editor

Related Articles