خیبرپختونخوا محکمہ تعلیم کی عدم دلچسپی ، عالمی بینک کا اربوں روپے کا منصوبہ سالوں بعد بھی اہداف حاصل کرنے میں ناکام

حکام کی معیاری تعلیم کے فروغ میں عدم دلچسپی یا پھر غفلت  عالمی بینک کا اربوں روپے کا منصوبہ سالوں بعد بھی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، اہداف حاصل نہ کرنے پر عالمی بینک کے منصوبے پر 20 ملین ڈالر یعنی 6 ہزار 962 ملین روپے کا کٹ لگا دیا ہے۔

آزاد ڈیجیٹل کے پاس موجود دستاویز کے مطابق  عالمی بینک کے 115 ملین ڈالر منصوبے میں محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے گزشتہ 5 سالوں کے دوران صرف 24 ملین ڈالرز ہی خرچ کیا ہے۔  خیبرپختونخوا میں طلبہ و طالبات کا ابتدائی تعلیم تک رسائی میں بہتری لانے لئے مختص فنڈز خرچ کرنے میں بھی ناکام محکمہ تعلیم ناکام رہا ہے۔

ورلڈ بینک نے خیبرپختونخوا میں تعلیم تک رسائی کے لیے 81 ملین ڈالر مختص کئے ہے جس میں اب تک صرف 12 ملین ڈالرز ہی خرچ ہوسکے ۔ اساتذہ اور طلبہ کی بہتر تربیت اور ان کے سکلز بڑھانے کے لیے 8 ملین ڈالر مختص بجٹ میں 1 ملین ڈالر کا استعمال ہی ہوسکا ہے۔

 ورلڈ بینک کا کمیونٹی شراکت داری اور تعلیم کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے1 ملین ڈالر مختص فنڈز میں بھی کوئی خاطر خواہ فنڈز کا استعمال نہ کیا جاسکا ہے۔ یعنی آگاہ پیدا کرنے پر کام ہی نہیں ہوا ہے۔

 ورلڈ بینک کے تعاون سے صوبے کے متعدد اضلاع میں سیلاب سے متاثرہ سکولوں کی بحالی پر کام ہونا تھا۔ سیلاب سے متاثرہ سکولوں کی دوبارہ تعمیر و بحالی کے لیے مختص 18 ملین ڈالر میں صرف 6 ملین ڈالر خرچ ہوسکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور ہائیکورٹ کا علی امین گنڈاپور  کو کسی بھی درج مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم

 ورلڈ بینک کا منصوبہ 2022 میں شروع ہوا جو 2025 میں مکمل ہونا تھا لیکن ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اسے اب مزید ایک سال تک توسیع دی گئی ہے اور اب یہ منصوبہ 2026 میں مکمل ہوگا۔

ذرائع کے مطابق توسیع کے ساتھ اس پر کٹ بھی لگایا ہے اور 20 ملین ڈالر اب کاٹ دی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق  خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں سکولوں کی بحالی،نئے کلاس رومز قائم ہونا اس منصوبے میں شامل ہے۔ دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کے تحت 867 جزوی تباہ شدہ سکولز اور 35 مکمل تباہ سکولز کی بحالی کرنا تھا لیکن اس وقت 29 مکمل تباہ شدہ اور 833 جزوی تباہ شدہ سکولوں پر کام جاری ہے۔

ورلڈ بینک کے اس منصوبے پر اب تک  61 فیصد تعمیراتی کام کیا گیا ہے جبکہ اس پر اب بھی 39 فیصد کام کرنا باقی ہے۔ اسی طرح ان منصوبوں پر اب تک 47 فیصد فنڈز کا استعمال کیا گیا ہے۔

موجود دستاویز کے مطابق  173 اضافی کلاس رومز کی تعمیر بھی اس منصوبے میں شامل ہے۔ دستاویزات کے مطابق یہ 94 ملین ڈالرز کا منصوبہ ہے جس پر اب 20 ملین ڈالرز کا کٹ لگا دیا ہے۔

اس سلسلے میں جب ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ تعلیم قیصر عالم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کا منصوبہ بہترین منصوبہ ہے، اس  منصوبے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ورلڈ بینک نے اسے توسیع دی گئی۔

ان کے مطابق 2025 کو مکمل ہونے والے اس منصوبے کو توسیع دی گئی ہے اور اب یہ منصوبہ 2026 میں مکمل ہوگا۔ قیصر عالم نے بتایا کہ تباہ شدہ سکولز کی بحالی اور دیگر اہداف پر تیزی کے ساتھ کام جاری ہے۔

Related Articles