مودی سرکار کا نیا ہتھکنڈہ،جنگلات بچانے کے نام پر مسلمانوں کو بےدخل کرنے کی مہم شروع کردی

مودی سرکار کا نیا ہتھکنڈہ،جنگلات بچانے کے نام پر مسلمانوں کو بےدخل کرنے کی مہم شروع کردی

آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے آسام میں بی جے پی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلات کے تحفظ کی آڑ میں جاری بے دخلی مہم دراصل مسلمانوں کو منظم طور پر نشانہ بنانے کی حکومتی سازش ہے، جس کے پیچھے براہِ راست نریندر مودی کی اقلیت دشمن پالیسیوں کا ہاتھ ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سینئر رہنماؤں رفیق الاسلام، امین الاسلام اور اشرف حسین نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ بی جے پی کی زیرقیادت حکومت جان بوجھ کر مسلم اکثریتی علاقوں جیسے گول پاڑہ، دھوبری اور کچوٹولی میں مکینوں کو بے دخل کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات انسانی، قانونی اور آئینی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں،عدالتی احکامات کی کھلی توہین ہے پارٹی کے جنرل سیکرٹری رفیق الاسلام نے انکشاف کیا کہ حکام نے عدالت کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے اور عدلیہ کی تعطیلات کے دوران کارروائی کر کے بدنیتی کا ثبوت دیا۔

یہ خبربھی پڑھیں :مودی کا بھارت،انتہاپسندوں کا مرکز،اقلیتوں کے لیے جہنم،ہمسایوں کے لیے خطرہ

ان کے مطابق محکمہ جنگلات عدالت میں زمین کا درست ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے، جب کہ بے دخل کیے گئے لوگ قانونی طور پر اپنی جگہ کے حق میں دلائل دے چکے ہیں۔
رفیق الاسلام کا کہنا تھا کہ جن زمینوں کو “جنگلات” قرار دے کر گھروں کو مسمار کیا گیا، وہ سرکاری ریکارڈ میں جنگلات کی زمین کے طور پر درج ہی نہیں، مگر انتظامیہ نے اپنی مرضی سے انہیں جنگلات کہہ کر کارروائی کی۔

اڈانی و امبانی کے لیے زمین، غریبوں کے لیے ظلم؟ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے رہنمائوں نے شدید الفاظ میں کہا کہ اگر مودی حکومت اڈانی اور امبانی جیسے کارپوریٹ سرمایہ داروں کو زمینیں تحفے میں دے سکتی ہے تو وہ ان بےگھر خاندانوں کو 7 بیگھہ زمین کیوں نہیں دے سکتی، جیسا کہ وزیراعلیٰ نے اسمبلی میں وعدہ کیا تھا؟

یہ خبربھی پڑھیں :بھارت کا یاترا کی آڑ میں فوجی تسلط اور پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب

آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے رہنماؤں نے کہا کہ مودی حکومت آسام کے عوام کو سیاسی طور پر یرغمال بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ 2026 کے انتخابات سے پہلے ڈر، طاقت اور مذہبی تقسیم کے ذریعے بی جے پی کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔

editor

Related Articles