سفارتی سطح پر قائدانہ کردار، پاکستان نے روس، یوکرین فوری جنگ بندی کے لیے مؤقف سلامتی کونسل میں پیش کردیا

سفارتی سطح پر قائدانہ کردار، پاکستان نے روس، یوکرین فوری جنگ بندی کے لیے مؤقف سلامتی کونسل میں پیش کردیا

یوکرین کے شہروں پر شدید فضائی حملوں کے تناظر میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے فوری اور جامع جنگ بندی اور نئی سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:روس یوکرین جنگی تنازع ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرینی صدر زیلنسکی پر برس پڑے

یہ مؤقف اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے، سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں پیش کیا، جو پاکستان کی یکم جولائی سے شروع ہونے والی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران آخری اجلاس تھا۔

پاکستانی سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ ’ ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ فوجی قوت کا اظہار تنازعات کے حل کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ پائیدار امن کا واحد قابل عمل راستہ بات چیت اور سفارت کاری ہے‘۔

واضح رہے کہ یہ اجلاس روس کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا تاکہ یوکرین کے ساتھ تنازع کے سفارتی حل کے امکانات پر گفتگو کی جا سکے۔ تاہم، کئی رکن ممالک نے اس اجلاس پر تنقید کی اور کہا کہ یہ حقیقی سفارتی اقدام نہیں بلکہ روس کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

روسی نائب مستقل نمائندے دمتری پولیانسکی نے مغربی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’سفارت کاری کے بھیس میں بھیڑیے‘ بنے ہوئے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ یوکرین کو ہتھیاروں سے لیس کر رہے ہیں اور امن کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس نے کبھی سفارت کاری کی اہمیت سے انکار نہیں کیا، لیکن 2014 کے کیف میں ہونے والی بغاوت کے بعد اس کے امن کے مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا گیا، جس کے باعث فروری 2022 میں ’خصوصی فوجی کارروائی‘ کا آغاز کرنا پڑا۔

مزید پڑھیں:یوکرین کے ساتھ 30 دن کی جنگ بندی نہ کی تو، سنگیں پابندیاں عائد کریں گے، یورپین ممالک کی روس کو دھمکی

ادھر امریکا کے نمائندے جان کیلی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 14 جولائی کے اس اعلان کا حوالہ دیا کہ امریکا اپنے دفاعی ہتھیار نیٹو اتحادیوں کو فراہم کرے گا، جو انہیں یوکرین کو دے سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’ یوکرین کی دفاعی امداد کا موازنہ روس کو ملنے والے مہلک ہتھیاروں سے نہیں کیا جا سکتا، جن سے حملہ آور کو اپنی جارحیت جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے‘۔

جان کیلی نے کہا کہ روس اور یوکرین کو فوری جنگ بندی اور مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات کرنے ہوں گے۔ ’وقت آ گیا ہے کہ کوئی معاہدہ ہو‘۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ عمل 8 اگست تک مکمل ہونا چاہیے۔ امریکا اس مقصد کے لیے اضافی اقدامات کرنے کو بھی تیار ہے۔

اپنے اختتامی کلمات میں سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان کشیدگی کے خاتمے، فوری جنگ بندی اور ایک جامع حل کا حامی ہے۔

’پاکستان باہمی سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے بامعنی مذاکرات، اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحت سفارت کاری اور علاقائی و عالمی شراکت داروں کی شمولیت سے امن کا راستہ ہموار کرنے کے حق میں ہے‘۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ’ پاکستان اس تنازع کے پرامن حل کے لیے اپنی پختہ حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن کوشش کی حمایت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے‘۔

Related Articles