سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی آزاد کشمیرکے صدر عبد القیوم نیازی کو بھمبر کے علاقے سماہنی سے اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ ایک احتجاجی ریلی کی قیادت کررہے تھے۔
سیکورٹی اداروں اور پولیس کے مطابق انہیں 16 ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی قیادت نے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے اور وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی مارچ کا ایک باقاعدہ منصوبہ تیار کیا تھا جسے پانچ اگست کو عملی جامہ پہنایا جانا تھا۔
اس پلان میں آزاد کشمیر کے تمام انٹری پوائنٹس بند کرنے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش شامل تھی،حکومت آزاد کشمیر کو اس خطرناک منصوبے کی بروقت اطلاع موصول ہوئی جس کے بعد سیکورٹی اداروں نے پیشگی کارروائی کرتے ہوئے قیوم نیازی کو گرفتار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ نو مئی کی طرز پر ایک منظم ہنگامہ آرائی اور احتجاج کا تسلسل ہو سکتا تھا،پولیس ذرائع نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر کسی نے بھی پانچ اگست کو ریاستی اداروں کے خلاف یا انٹری پوائنٹس کی بندش جیسی حرکت کرنے کی کوشش کی تو اس کا انجام بھی عبد القیوم نیازی جیسا ہوگا۔
ہر ایسے انتشار پھیلانے والے شخص کی آرام گاہ جیل ہوگی ،تحریک انصاف آزاد کشمیر کے دیگر اہم رہنماؤں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے اور مزیدگرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ عوام کو بدامنی میں جھونکنے والے عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا اور ریاست کی رٹ کو ہر صورت قائم رکھا جائے گا۔