نریندر مودی اور امت شاہ جوڑی کا زوال شروع، بی جے پی کی سیاسی سلطنت میں دراڑ پڑ گئی

نریندر مودی اور امت شاہ جوڑی کا زوال شروع، بی جے پی کی سیاسی سلطنت میں دراڑ پڑ گئی

بھارت کی سیاسی فضا میں ایک بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں وزیراعظم نریندرمودی اوروزیر داخلہ امت شاہ کی طاقتورجوڑی کی گرفت اقتدارپرڈھیلی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مودی سرکاری کی پے درپے ناکامیاں، کانگرس لیڈر اُتم کمار نے بھارتی حکومت کا چہرہ بےنقاب کردیا

معتبر صحافتی ادارے دی وائر نے اپنی تازہ رپورٹ میں بی جے پی کی زوال پذیرسیاسی صورتحال پرروشنی ڈالتے ہوئے متعدد سنجیدہ الزامات اور تجزیے پیش کیے ہیں۔

آر ایس ایس نے مودی سے منہ موڑ لیا

رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نظریاتی سرپرست، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، نے مودی قیادت سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر بڑھتا ہوا انتشار، اقربا پروری  اور جمہوری اداروں پر کنٹرول آر ایس ایس کی ناراضی کی بڑی وجوہات ہیں۔

عوامی حمایت میں تیزی سے کمی

دی وائر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’بی جے پی‘ اس وقت بھارت کی 15 ریاستوں میں برسرِ اقتدار ہے، لیکن اس کے باوجود عوامی حمایت میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کو 60 سے زیادہ نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو مودی کی سیاسی طاقت کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔

اداروں کا سیاسی استعمال

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مودی حکومت نے ای ڈی (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ)، سی بی آئی (سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن) اورانکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو سیاسی مخالفین کے خلاف بطور ہتھیاراستعمال کیا۔ ان اداروں کے ذریعے مخالف جماعتوں پردباؤ ڈالنا، منتخب حکومتوں کو گرانا اوراپوزیشن کی آوازکودبانا عام روایت بن چکی ہے۔

مزید پڑھیں:بھارت کا چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پرتنازع ، مودی سرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور

انتخابی نظام پر سوالات

دی وائر نے مودی حکومت کی جانب سے انتخابی کمیشن میں کی گئی تبدیلیوں کو بھی متنازع قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا کو الیکشن کمیشن کی تقرری کمیٹی سے نکال کروزیرکو شامل کرنا، آئینی خودمختاری کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اس اقدام کے بعد عوام کا شفاف انتخابات پر اعتماد متزلزل ہوا ہے۔

راہول گاندھی کا ابھرتا ہوا کردار

رپورٹ میں کانگریس رہنما راہول گاندھی کو مودی حکومت کے خلاف ایک مضبوط متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان کی بھارت جوڑو یاترا نے عوام کو جوڑنے کا کردار ادا کیا اور ان کی کوششوں سے ایس آئی آر میں انتخابی بے ضابطگیوں کو بے نقاب کیا گیا۔

معاشی و سفارتی ناکامیاں

مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام نے عوام میں عدم اطمینان کو بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ چین، امریکا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے، جو خارجہ پالیسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بہار انتخابات، موت یا زندگی کا امتحان

رپورٹ کے مطابق بہار کے آئندہ انتخابات مودی حکومت کے لیے موت یا زندگی کا امتحان بن چکے ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ اگر ’بی جے پی‘ یہاں شکست سے دوچار ہوتی ہے، تو یہ مودی دور کے خاتمے کا عملی آغاز ہوگا۔

کیا مودی راج کا سورج غروب ہونے کو ہے؟

دی وائر کی اس تفصیلی رپورٹ نے ایک نیا بیانیہ قائم کیا ہے کہ نریندرمودی کی طویل عرصے سے قائم سیاسی ہیجمنی اب ٹوٹنے کے قریب ہے۔ جمہوری اداروں کی کمزوری، عوامی حمایت میں کمی، اپوزیشن کا ابھار اور اقتصادی و سفارتی ناکامیاں سب مل کر اس طاقتور حکومت کی بنیادیں ہلا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:الیکشن چوری ہوا،انتخابی کمیشن آر ایس ایس کا دفتر بن چکا،مودی حکومت جعلی ہے، ثبوت قوم کے سامنے لاؤں گا،راہول گاندھی

اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھارتی سیاست کون سا نیا رخ اختیار کرتی ہے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ مودی-امت شاہ جوڑی کے اقتدار کا سفر اپنے نازک ترین موڑ پر آ چکا ہے۔

Related Articles