بھارت نے پاکستانی دریاؤں میں مزید پانی چھوڑ دیا ہے جس کے باعث صوبہ پنجاب کے بیشتر علاقے شدید سیلاب کی لپیٹ میں آگئے ہیں، سیلاب سے اب تک 56 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ 25 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے اتوار کو جاری کیے گئے نئے اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی کے علاوہ مسلسل مون سون بارشوں کے باعث بھی سیلاب میں اضافہ ہوا ہے جس سے پنجاب کے 25 اضلاع کو بری طرح متاثر کیا ہے، جہاں اب تک 56 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صورتحال کو حالیہ تاریخ کا ایک بڑا انسانی بحران قرار دیا۔ ان کے مطابق اب تک 4,155 سے زیادہ دیہات سیلابی پانی میں ڈوب چکے ہیں، جب کہ 60,000 سے 70,000 افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں خوراک، رہائش اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
دریاؤں میں پانی کی خطرناک صورتحال
انہوں نے نئے اعداد و شمار میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے اہم دریاؤں میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے بلند ہو چکی ہے، اعداد و شمار کے مطابق دریائے راوی جسر کے مقام پر سیلابی ریلہ 65,000 کیوسک کی رفتار سے بہہ رہا ہے۔ تریموں بیراج پر پانی کی مقدار543,000 کیوسک تک پہنچ چکی ہے، جو آئندہ چند گھنٹوں میں600,000 کیوسک تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ہیڈ محمد والا پر پانی کی سطح میں کمی آئی ہے، لیکن ہیڈ پنجند پر پانی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس سے آس پاس کی آبادی کو خطرات لاحق ہیں۔
بھارت نے دریائے ستلج میں مزید سیلاب کی وارننگ جاری کر دی
وزارت آبی وسائل کے مطابق پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن نے وزارت آبی وسائل کو ستلج میں سیلاب کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے، وزارت آبی وسائل کے مطابق دریائے ستلج میں ہریکے زیریں اور فیروزپور زیریں پر اونچے درجے کا سیلاب ہوگا، اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ یکم ستمبر صبح 8 بجے سےہے۔ سیلاب الرٹ متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومتوں کو جاری کردیا گیا۔
پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن
پنجاب میں ریسکیو 1122 کی جانب سے اب تک 25,000 کشتیوں کے ذریعے ریسکیو آپریشن کیے جا چکے ہیں، جسے صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ملتان میں صورتحال آئندہ 72 گھنٹوں تک تشویشناک رہنے کا امکان ہے اور امدادی ٹیمیں ہائی الرٹ پر ہیں۔
جہاں سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد اور چنیوٹ جیسے اضلاع میں بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے، وہیں خانیوال، جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سیلابی خطرات بدستور موجود ہیں۔
شہری علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال
پنجاب میں شہری سیلاب نے بھی عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ گجرات میں شدید بارشوں کے باعث اہم شاہراہیں زیرِ آب آ گئیں۔ اگرچہ بیشتر سڑکیں کلیئر کر دی گئی ہیں، لیکن مسلسل بارش کے باعث نکاسی آب میں دشواری ہو رہی ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خطرے کے علاقوں میں محتاط رہیں اور امدادی ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
محکمہ موسمیات کی ماہانہ رپورٹ، معمول سے زیادہ بارشیں اور زیادہ درجہ حرارت
ادھر پاکستان محکمہ موسمیات نے اگست کے لیے ماہانہ موسمیاتی رپورٹ جاری کی، جس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں معمول سے کچھ زیادہ بارش اور درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
اگست میں 82.5 ملی میٹر بارش ہوئی، جو 1.1 فیصد معمول سے زیادہ ہے۔ قومی اوسط درجہ حرارت 30.44 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
اہم موسمی اعداد و شمار کے مطابق دادو میں 8 اگست کو مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 45.6°C ریکارڈ ہوا۔
سکردو میں 3 اگست کو سب سے سرد دن 17.5°C رہا جبکہ بگروٹ (گلگت بلتستان) میں 14 اگست کو سب سے سرد رات 10.5°C رہی ہے۔
گلگت میں 18 اگست کو سب سے گرم رات 27.5°C ریکارڈ ہوئی۔ ساہیوال میں27 اگست کو ایک دن میں سب سے زیادہ بارش340.5 ملی میٹر ہوئی، جبکہ ماہ بھر میں سب سے زیادہ بارش750.8 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہوائیں عرب ساگر اور خلیج بنگال سے پاکستان میں داخل ہوتی رہیں، جب کہ سندھ اور بلوچستان میں ایک طاقتور مون سون اسپیل نے شدید اثرات مرتب کیے۔ شمال مغربی بلوچستان میں بھی بارشوں کا سلسلہ ایک کم دباؤ والے سسٹم کی وجہ سے جاری رہا۔
پنجاب میں بدترین سیلابی صورتحال کے دوران حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، جب کہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز تیزی سے جاری ہیں۔