نیپال میں مظاہرین نے پارلیمنٹ کو آگ لگا دی ہے جس کے بعد وزیرِاعظم کے پی شرما اولی نے طلبا اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور اطلاعات ہیں کہ وہ ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، کے پی شرما اولی نے یہ فیصلہ ملک بھر میں جاری عوامی احتجاج اور سیکیورٹی فورسز کے پرتشدد کریک ڈاؤن کے بعد کیا، جس میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوگئے تھے، یہ برسوں میں ملک میں ہونے والے سب سے ہلاکت خیز سیاسی مظاہرے تھے۔
اولی نے صدر کو دیے گئے استعفے میں لکھا کہ ’ میں آج سے وزیرِاعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں تاکہ سیاسی اور موجودہ مسائل کے حل کی طرف مزید اقدامات کیے جا سکیں‘۔
احتجاج اُس وقت شروع ہوا جب حکومت نے جمعہ کو سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، یوٹیوب اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پابندی عائد کر دی۔ اگرچہ بعد میں ان پلیٹ فارمز کو بحال کر دیا گیا، مگر عوامی غصہ کم نہ ہوا، کیونکہ نوجوان نسل میں کرپشن، بیروزگاری اور حکومت کی غیر ذمہ داری پر پہلے سے ہی شدید ناراضی موجود تھی۔
🚨Chaos in Nepal.
Student protesters have stormed Parliament and set it on fire. Prime Minister KP Sharma Oli has resigned.
منگل کو حکومت کی طرف سے نافذ کرفیو کے باوجود ہزاروں مظاہرین، جن میں زیادہ تر نوجوان تھے، کھٹمنڈو اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے پولیس کے ساتھ جھڑپیں کیں، سرکاری عمارتوں پر حملے کیے اور کئی جگہوں پر آگ لگا دی۔
23 سالہ طالبعلم یوجن راج بھنڈاری نے کہا کہ ’”قریب 20 افراد کو ریاست نے قتل کر دیا گیا ہے، یہ پولیس کی بربریت کی شدت کو ظاہر کرتا ہے‘۔
کھٹمنڈو پولیس کے ترجمان شیکھر کھنال کے مطابق، متعدد علاقوں میں کرفیو کی خلاف ورزی ہوئی اور ’آگ لگانے اور حملوں کے واقعات‘ دیکھنے میں آئے۔ ایک فوٹوگرافر اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، متعدد سرکاری عمارتیں بھی نشانہ بنائی گئیں۔
پیر کو پارلیمنٹ کے قریب مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جب مظاہرین خار دار تاریں عبور کرکے ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ پولیس کے مطابق، صرف کھٹمنڈو میں 17 اور مشرقی ضلع سنسری میں 2 افراد ہلاک ہوئے۔ تقریباً 400 افراد زخمی ہوئے، جن میں 100 سے زیادہ پولیس اہلکار شامل ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مظاہرین پر گولیاں چلانے کی مذمت کی ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ نے واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیرِاعظم اولی نے ایک اعلیٰ سطح انکوائری کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کریں گے تاکہ پرتشدد صورتحال کا بامعنی حل نکالا جا سکے۔
دوسری جانب حکومت کو اندرونی سطح پر بھی بحران کا سامنا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے وزیر نے پیر کو استعفیٰ دے دیا، جبکہ مقامی میڈیا کے مطابق مزید 2 وزرا نے منگل کے روز استعفیٰ دے دیا۔
وزیرِ مواصلات پرتھوی سبا گرونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بحالی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ نوجوانوں، خاص طور پر ’جینزی‘ کے اہم مطالبات میں شامل تھا۔ ہم مظاہرین سے بات چیت کے لیے تیار ہیں‘۔
نیپال کی 3 کروڑ آبادی میں 15 سے 40 سال کی عمر کے افراد کا تناسب 43 فیصد ہے، جبکہ بیروزگاری کی شرح 10 فیصد کے قریب ہے۔ معاشی بدحالی، عدم مساوات اور سیاسی بدعنوانی نوجوان نسل کی ناراضی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
دی کھٹمنڈو پوسٹ نے لکھا کہ ’حالیہ دنوں میں، ٹک ٹاک پرایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں عام نیپالی شہریوں کی مشکلات کو سیاستدانوں کے بچوں کی عیش و عشرت سے موازنہ کیا گیا، جس نے عوامی غصے کو مزید ہوا دی۔
’یہ معاملہ صرف سوشل میڈیا کا نہیں، یہ اعتماد، کرپشن اور ایک ایسی نسل کی بات ہے جو خاموش نہیں بیٹھے گی‘۔ اخبار نے مزید لکھا کہ ’جینزی‘ نے موبائل فونز، عالمی رجحانات اور ایک خوشحال نیپال کے خواب کے ساتھ آنکھ کھولی ہے۔ ان کے لیے ڈیجیٹل آزادی، ذاتی آزادی کے مترادف ہے۔ سوشل میڈیا بند کرنا، ایک پوری نسل کو خاموش کرانے کے مترادف ہے‘۔
نیپال نے ماضی میں بھی آن لائن پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کی ہے، جیسے کہ جولائی میں ٹیلیگرام پر پابندی، جس کا جواز آن لائن فراڈ میں اضافے کے طور پر پیش کیا گیا۔ گزشتہ سال، 9 ماہ کی پابندی کے بعد ٹک ٹاک کو اس وقت بحال کیا گیا جب اس نے نیپالی قوانین پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔
اولی کا استعفیٰ ملک میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی طرف ایک ممکنہ قدم تصور کیا جا رہا ہے، لیکن صورتحال تاحال نازک ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے نیپال کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔