پنجاب میں آٹے کا بحران ختم ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے کیونکہ صوبائی حکومت اور فلور مل مالکان کے درمیان اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد آج سے صوبے بھر کی 800 سے زیادہ فلور ملیں دوبارہ کام شروع کر رہی ہیں۔
یہ اقدام آٹے کی قیمتوں کو مستحکم کرنے اور اس کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، کیونکہ حالیہ ہفتوں میں آٹے کی قلت سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فلورملیں اب سرکاری نرخوں پر10 کلو اور20 کلو کے آٹے کے تھیلے فراہم کریں گی، جس سے عوام کو ریلیف ملے گا۔
فلور ملز ایسوسی ایشن نے تصدیق کی ہے کہ حکومت ہر ماہ 1 لاکھ ٹن گندم فراہم کرے گی تاکہ آٹے کی تیاری میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی کمپنیوں نے بھی 25 لاکھ آٹے کے تھیلے 3,000 روپے فی من کے حساب سے فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ ان کمپنیوں کے نمائندے ڈائریکٹر جنرل فوڈ سے ملاقات کریں گے تاکہ مقدار اور تقسیم کا حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ کی معاون خصوصی برائے پرائس کنٹرول سلمیٰ بٹ نے فلور ملز کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ گندم اور آٹے کے بحران سے متعلق تجاویز زیرِ غور ہیں۔ اُنہوں نے یقین دہانی کروائی کہ پنجاب کی مارکیٹوں میں آٹے کی فراہمی مکمل طور پر بحال کر دی جائے گی اور قیمتوں میں استحکام رہے گا۔
حکومت کی بروقت کارروائی اور مقامی و بین الاقوامی سپلائرز سے شراکت داری کو غذائی بحران کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔