اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے پر بحال کر دیا گیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے پر بحال کر دیا گیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان کو عہدے سے ہٹانے کے سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور انہیں ان کے عہدے پر بحال کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چیئرمین پی ٹی اے نے عہدے سے ہٹائے جانے پر انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی

چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، جس میں کہا گیا کہ سنگل بینچ کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں تھا اور اس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی اے چیئرمین کی برطرفی کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا، وہ قواعد و ضوابط سے ہٹ کر تھا۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے قبل ازیں پی ٹی اے چیئرمین کی تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ سنگل بینچ نے اپنے فیصلے میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ چیئرمین کی تقرری میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی اور یہ تقرری شفاف طریقے سے نہیں ہوئی۔

چیئرمین پی ٹی اے نے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر آج سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے اپیل منظور کر لی اور سنگل بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

ڈویژن بینچ نے قرار دیا کہ چیئرمین پی ٹی اے کی تقرری قانون کے مطابق ہوئی تھی، اور انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے مناسب قانونی بنیاد اور طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ عدالت نے کہا کہ اگر حکومت کو چیئرمین کی کارکردگی یا تقرری پر اعتراض تھا تو اسے متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کرنی چاہیے تھی۔

مزید پڑھیں:انٹرنیٹ کی رفتار کم کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے : چیئرمین پی ٹی اے

اس فیصلے کے بعد چیئرمین پی ٹی اے فوری طور پر اپنے عہدے پر کام دوبارہ شروع کر سکیں گے۔ عدالتی فیصلے کو آئینی اور قانونی ماہرین کی جانب سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے سرکاری اداروں کے سربراہان کی تقرری اور برطرفی کے معاملات میں شفافیت اور قانونی عملداری کو تقویت ملے گی۔

عدالتی فیصلے سے پی ٹی اے کی کارکردگی اور پالیسی معاملات پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ آئندہ دنوں میں لیا جائے گا، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ فیصلہ چیئرمین کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔

Related Articles