خوارج کی 22 منٹ کی ویڈیو کا بھانڈا پھوٹ گیا، پرانی فوٹیج نئے دعوے کے ساتھ وائرل

خوارج کی 22 منٹ کی ویڈیو کا بھانڈا پھوٹ گیا، پرانی فوٹیج نئے دعوے کے ساتھ وائرل

  خوارج کی جانب سے جاری کی گئی 22 منٹ طویل ویڈیو پر سوالات اٹھ گئے ہیں، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ویڈیو کو حالیہ واقعے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم اس کے مناظر دراصل پرانے ہیں اور انہیں غلط تاثر کے ساتھ دوبارہ استعمال کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جاری کی گئی ویڈیو سال 2021 میں ریکارڈ کی گئی تھی، جب ملک میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت تھی،سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو کو موجودہ حالات سے جوڑ کر پیش کرنے کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور غلط معلومات پھیلانا ہے۔

مقام سے متعلق غلط دعویٰ

حکام کے مطابق ویڈیو میں دکھایا گیا علاقہ خیبر یا کرم نہیں بلکہ افغانستان کی سرحد سے متصل علاقہ ہے،سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ ویڈیو کے مقام اور وقت سے متعلق حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے ایک نئے واقعے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ہنگو پولیس کے شہداء کا بدل لے لیا گیا،خزینہ بانڈہ چیک پوسٹ حملے کا ماسٹر مائنڈ خوارجی معاویہ جھنم واصل

کنٹرول کا دعویٰ مسترد

سیکیورٹی اداروں کے مطابق پاکستان کے کسی بھی علاقے میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی یا فتنہ الخوارج کا کوئی کنٹرول یا مستقل قیادت موجود نہیں ہے،حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ریاستی ادارے ملک کے امن و استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے اپنے نیٹ ورک کو منظم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں،حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں پروپیگنڈا مواد کے ذریعے اپنی موجودگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش

سیکیورٹی اداروں کے مطابق پرانی ویڈیو کو نئے واقعے کے طور پر شیئر کرنے کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے،حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کو بغیر تصدیق آگے نہ بڑھائیں اور مستند ذرائع سے حقائق کی جانچ کریں۔

editor

Related Articles