حکومت نے نئی گندم پالیسی کا ڈرافٹ تیار کر لیا ، تفصیل جانئے

حکومت  نے نئی گندم پالیسی کا ڈرافٹ تیار کر لیا ، تفصیل جانئے

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گندم کے حوالے سے ایک مفصل نیا پالیسی ڈرافٹ تیار کرلیا ہے، جس میں گندم کی امدادی قیمت کو 3400 روپے فی من مقرر کرنے اور نجی شعبے کو گندم خریدنے کا لائسنس دینے کی تجویز شامل ہے۔

ڈرافٹ کے مطابق یہ مسودہ چاروں صوبوں کو رائے کے لیے بھجوایا گیا ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف صوبائی آراء جاننے کے لیے ایک آن لائن اجلاس طلب کریں گے۔ اس اجلاس کی روشنی میں قیمت اور خریداری کا ہدف حتمی شکل اختیار کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  صوبائی حکومت نے گندم اجراء پالیسی کی منظوری د یدی، آٹے کی قیمت سے متعلق بھی اہم فیصلہ

دستاویز یہ تجویز کرتی ہے کہ نجی شعبے کو گودام فراہم کیے جائیں اور وہ امدادی قیمت پر گندم خرید سکیں۔ اس کے علاوہ، گندم کی بین الصوبائی منتقلی کو صرف اس صورت میں ممکن قرار دیا گیا ہے جب متعلقہ صوبائی حکومت اس کی اجازت دے۔

سرکاری ڈرافٹ میں اس سال ساڑھے باسٹھ لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے تحت پنجاب کو پچیس لاکھ ٹن، سندھ کو دس لاکھ ٹن، خیبرپختونخوا کو ساڑھے سات لاکھ ٹن، اور بلوچستان کو پانچ لاکھ ٹن گندم خریدنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی مشترکہ مشاورت کے بعد یہ مقدار اور قیمت حتمی ہوں گی۔

نئی پالیسی کی تیاری ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب گندم کی مارکیٹ قدرے بے یقینی کا شکار ہے۔ کسان نمائندے گذشتہ عرصے میں سرکار کی جانب سے امدادی قیمت کا اعلان نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں، اور بعض رپورٹوں کے مطابق مارکیٹ ریٹ 40 کلو گندم کے لیے 2100 تا 2400 روپے کے درمیان ہے، جو فصل کی تیاری لاگت سے بہت کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے گندم کی قیمتوں سے متعلق جامع حکمت عملی تیار کرلی، تفصیلات سامنے آگئیں

Related Articles