اسلام آباد، پشاور سمیت ملک کے متعدد علاقوں میں منگل کی شام زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ سرگودھا، راولپنڈی، باجوڑ، دیر اور مری سمیت کئی شہروں میں زمین ہلنے سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
زلزلے کے جھٹکے سب سے پہلے سرگودھا اور گردونواح میں محسوس کیے گئے، جہاں شہری کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔ عینی شاہدین کے مطابق جھٹکے چند سیکنڈ تک محسوس کیے گئے، تاہم ان کی شدت اتنی تھی کہ متعدد عمارتوں اور گھروں کے شیشے ہلنے لگے۔ شہریوں نے بتایا کہ زمین لرزنے کے باعث لوگ خوفزدہ ہو گئے اور بڑی تعداد میں گلیوں اور کھلے مقامات کی جانب دوڑ پڑے۔
پشاور، باجوڑ اور دیر میں بھی زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے۔ ان علاقوں میں بھی لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جھٹکوں کا دورانیہ چند لمحوں تک رہا مگر شدت کے باعث لوگ خوف کا شکار رہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی زلزلے کے واضح جھٹکے محسوس کیے گئے۔ شہریوں نے بتایا کہ دفاتر اور گھروں کی عمارتیں ہلنے لگیں تو لوگ فوراً باہر نکل آئے۔ مری میں بھی زلزلے کے اثرات محسوس کیے گئے، جہاں لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہلکی لرزش کے باوجود پہاڑی علاقوں میں زلزلے کے اثرات زیادہ نمایاں محسوس ہوئے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن، افغانستان تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ماہرین کے مطابق ہندوکش کا علاقہ زلزلوں کے لحاظ سے فعال فالٹ لائن پر واقع ہے، جہاں سے اکثر جھٹکے پاکستان کے شمالی اور وسطی حصوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ممکنہ آفٹر شاک کی صورت میں محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری طور پر عمارتوں کے اندر قیام سے گریز کریں۔