مہنگائی سے غریب کا چولہا بجھنے لگا، چینی، مرغی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

مہنگائی سے غریب کا چولہا بجھنے لگا، چینی، مرغی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

ملک میں مہنگائی کا گراف ایک بار پھر اوپر جانے لگا ہے اور عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

 ادارہ شماریات نے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی تازہ ترین رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران مجموعی طور پر مہنگائی میں 0.53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 4.15 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مہنگائی کا نیا دھچکا ، برائلر مرغی اور انڈوں کی قیمت میں اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے 15 ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 12 اشیا سستی ہوئیں جبکہ 24 اشیا کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

سب سے زیادہ اضافہ چینی کی قیمت میں دیکھا گیا ہے۔ کوئٹہ میں چینی کی فی کلو قیمت 210 روپے سے بڑھ کر 229 روپے تک پہنچ گئی، یعنی 19 روپے کا اضافہ۔ پشاور میں چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 200 روپے، جبکہ کراچی اور اسلام آباد میں 195 روپے فی کلو ریکارڈ کی گئی ہے۔ چینی کی قیمتوں میں یہ اضافہ شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روزمرہ اخراجات پہلے ہی بڑھ چکے ہیں۔

ادارہ شماریات کے مطابق زندہ مرغی کی فی کلو قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو ایک ہفتے میں 66 روپے بڑھ گئی۔ ٹماٹر کی قیمت میں بھی 13 روپے فی کلو اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 60 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ پڑا ہے۔

مزید پڑھیں:مہنگائی کی نئی لہر ، چینی کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی

چند دیگر اشیا جن کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، ان میں آلو کی قیمت 90 پیسے، دال مسور 97 پیسے فی کلو اور انڈے 16 پیسے فی درجن مہنگے ہوئے۔

دوسری جانب کچھ اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ پیاز کی فی کلو قیمت میں 11 روپے تک کی کمی دیکھی گئی ہے، جس سے سبزیوں کے مجموعی نرخوں میں جزوی ریلیف ملا ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بار بار ہونے والا اضافہ نہ صرف عام صارف کے لیے بوجھ بڑھا رہا ہے بلکہ مجموعی معاشی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں میں استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مہنگائی کے طوفان کو روکا جا سکے۔

Related Articles