سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو پاکستان دفاع کے لئے موجود ہوگا، خواجہ آصف

سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو پاکستان دفاع کے لئے موجود ہوگا، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کی صورت میں اس کے دفاع کے لیے مدد فراہم کرے گا، خواہ خطرہ حوثیوں، کسی ملک یا کسی بھی دوسرے گروہ کی جانب سے ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان موجود ہوگا۔

الجزیرہ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو کلپ میں خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب کو کسی بھی تنازع میں مدد کی ضرورت ہوئی تو پاکستان اس کے ساتھ ہوگا اور سعودی سلامتی کو خطرہ لاحق کرنے والے کسی بھی فریق کے خلاف اس کے دفاع میں مدد فراہم کرے گا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کے ذہن میں اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں کہ حوثی سعودی عرب کے خلاف جارحیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ایک انتظام کے تحت پابند ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے پاس جو بھی ذرائع دستیاب ہیں، وہ سعودی عرب کے لیے بھی دستیاب ہوں گے۔

خواجہ آصف کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا دفاعی انتظام پاکستان کو اس کی سلامتی کے تحفظ کے حوالے سے ذمہ داریوں کا پابند کرتا ہے۔ ان کے بیان میں ’انتظام‘ سے بظاہر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کیے گئے دفاعی معاہدے کی طرف اشارہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: چینی سیاحوں کے لیے سعودی عرب کی بڑی پیشکش، اہم پیش رفت سامنے آگئی

پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے   پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

دونوں ممالک سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد کا بھی حصہ ہیں، جس پر 7 اگست کو دستخط کیے گئے تھے۔ اس معاہدے میں بھی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کرنے کی شق شامل ہے۔

خواجہ آصف اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر یمن کی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ عملی اور سفارتی طور پر کھڑا ہوگا۔ انہوں نے مکہ دفاعی اتحاد کے حوالے سے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا یا یمن کی لڑائی سعودی عرب تک پھیلی تو معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔

ستمبر میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں اور یمن میں جاری لڑائی کے تناظر میں پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنے دفاعی عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اس سے قبل 18 ستمبر کو آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ’کسی بھی حد تک‘ جائے گا اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے۔

Related Articles