افغانستان پھر دہشتگردی کا گڑھ بن گیا، ایف بی آئی رپورٹ میں دُنیا کے 41 ممالک میں افغان سلیپرز سیلز کی موجودگی کا انکشاف

افغانستان پھر دہشتگردی کا گڑھ بن گیا، ایف بی آئی رپورٹ میں دُنیا کے 41 ممالک میں افغان سلیپرز سیلز کی موجودگی کا انکشاف

امریکی وفاقی انٹیلیجنس (ایف بی آئی ) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے جڑے مبینہ دہشتگرد سلیپر سیلزدُنیا بھر کے متعدد ممالک میں سرگرم ہو گئے ہیں، جس سے عالمی سلامتی ایک نئے اور پیچیدہ خطرے سے دوچار ہو گئی ہے۔

امریکی وفاقی ایجنسی نے وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ میں افغان شہری کے ملوث ہونے کے بعد اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ابتدائی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان سے وابستہ انتہاپسند نیٹ ورکس دُنیا کے کم از کم 41 ممالک میں کام کر رہے ہیں، جس کے باعث یورپ اور شمالی امریکا میں سیکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس فائرنگ واقعہ ٹرمپ کا واشنگٹن میں 500 اضافی اہلکار تعینات کرنے کا حکم

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تشویش میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب بدھ کو وائٹ ہاؤس کے باہر ایک 29 سالہ افغان شہری رحمت اللہ لکانوال نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر حملہ کر کے 2 اہلکاروں کو شدید زخمی کر دیا۔ ایف بی آئی نے اس واقعے کو ’ممکنہ دہشتگرد حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات ابتدائی مراحل میں ہیں۔

مشکوک شخص کی سوشل میڈیا سرگرمیاں زیرِ تفتیش

تحقیقات سے وابستہ ذرائع کے مطابق رحمت اللہ لکانوال کے سوشل میڈیا ٹائم لائن پر ’لویو افغانستان‘ کے نعرے اور تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) اور پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم ) سے متعلق مواد بڑی تعداد میں موجود ہے۔

ایف بی آئی کے مطابق اگرچہ اس طرح کے مواد کا جائزہ لیا جا رہا ہے، لیکن یہ معلومات بذاتِ خود کسی منظم نیٹ ورک سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوئیں۔ ایف بی آئی اس کے آن لائن رابطوں اور ممکنہ سہولت کاروں کا گہرائی سے معائنہ کر رہی ہے۔

یورپ میں سیکیورٹی الرٹس

یورپین سیکیورٹی اداروں نے افغان پس منظر کے حامل افراد سے جڑے کیسز میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا ہے، جس کے مطابق جرمنی نے ایک سال میں 118 ہائی رسک کیسز درج کیے۔ یورپی یونین نے 12 ماہ میں 92 سیکیورٹی الرٹس جاری کیے۔ فرانس، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں بھی آن لائن شدت پسندی کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ سے نیشنل گارڈ کے 2 اہلکار شدید زخمی، مشتبہ حملہ آور گرفتار

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایک مشترکہ یورپی جائزے کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران دنیا بھر میں 3,800 آن لائن ریڈیکلائزیشن کیسز ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 19 فیصد افغانستان سے جڑے گروہوں تک جا ملتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بڑھتی ہوئی آن لائن بھرتیوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو سیاسی عدم استحکام، ہجرت اور غیر منظم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔

’خاموش جنگ‘ کا نیا دور

رپورٹ کے مطابق عالمی دہشتگردی ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں جنگیں روایتی میدانوں کے بجائے سلیپر سیلز کی خاموش کارروائیوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہیں۔

یورپی سیکیورٹی حکام کے مطابق ’ہم سرحدوں سے آگے نکل جانے والے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ گروہ اب مرکزی قیادت پر انحصار نہیں کرتے بلکہ آن لائن اثرورسوخ اور تنہا افراد کی ذہنی تبدیلی کے ذریعے اپنی طاقت بڑھا رہے ہیں‘۔

افغانستان کی داخلی صورتحال کا بیرونی اثر

انٹیلیجنس اداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سیکیورٹی خلا بیرونی عدم استحکام کا بڑا سبب ہے۔ مختلف شدت پسند گروہ آزادانہ طور پر سرگرم ہیں، آن لائن پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں اور بیرونِ ملک موجود کمیونٹیز میں اثر ڈال رہے ہیں۔

امریکی حکام کے ہنگامی اقدامات

وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والے حملے کے بعد امریکی سیکیورٹی اداروں نے مرکزی عمارتوں کے اطراف حفاظتی اقدامات کا فوری جائزہ لیا ہے۔ حکام نے مشکوک شخص کی سفری تفصیلات اور بیرونی رابطوں کے بارے میں مزید معلومات ظاہر نہیں کیں، تاہم بین الاقوامی اداروں کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

بڑھتے خطرات اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت

عالمی سطح پرجاری الرٹس میں اضافے کے ساتھ ہی امریکا، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے انسدادِ دہشتگردی اداروں نے انٹیلیجنس شیئرنگ کو مزید مؤثر بنانے کے منصوبے تیز کر دیے ہیں۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق چیلنج صرف ممکنہ حملوں کو روکنا نہیں بلکہ ان پوشیدہ نیٹ ورکس کی نشاندہی کرنا ہے جو آن لائن گمنامی میں پھل پھول رہے ہیں۔ فی الحال امریکی حکام اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا وائٹ ہاؤس کے باہر ہونے والا واقعہ ایک تنہا عمل تھا یا کسی بڑے اور منظم نیٹ ورک کی ابتدائی علامت ہے۔

Related Articles