خیبرپختونخوا کا معاملہ سنگین مرحلے میں داخل،ایمرجنسی یا گورنر راج پر وفاقی مشاورت تیز

خیبرپختونخوا کا معاملہ سنگین مرحلے میں داخل،ایمرجنسی یا گورنر راج پر وفاقی مشاورت تیز

وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلے کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا ہے، جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات بھی متوقع ہے۔

 وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی پر ایئرپورٹ ہی پر انہیں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور طلال چوہدری نے وزیراعظم کو صوبے کے حالات سے آگاہ کیا۔

مختلف آپشنز پرغور

بریفنگ کے دوران خیبرپختونخوا کی صورتحال میں بہتری کے لیے مختلف آپشنز بھی وزیراعظم کے سامنے رکھے گئے، وفاقی وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی قیادت سے ہونے والے پس پردہ رابطوں سے متعلق بھی وزیراعظم کو اعتماد میں لیا۔

صدر وزیراعظم کی ملاقات متوقع

دوسری جانب ایوان صدر میں بھی خیبرپختونخوا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، وفاقی سطح پر اہم مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی جلد ملاقات متوقع ہے،ملاقات میں خیبرپختونخوا کی صورتحال اور گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سے متعلق امور پر مشاورت کی جائے گی۔

آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی پر مشاورت

دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر مشاورت جاری ہے،انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ صدر مملکت کرتے ہیں جبکہ اس کی منظوری پارلیمنٹ دیتی ہے۔

پارلیمنٹ کی منظوری ضروری

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دیتی ہے تو آئینی طریقے سے ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے،حکومت کا اختیار ہے کہ وہ چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کسی بھی فرد کو تفویض کرسکتی ہے، جبکہ چیف ایگزیکٹو کے اختیارات گورنر کو بھی دیے جاسکتے ہیں۔

سیاسی اثرات برداشت کرنا ہوں گے

وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ اگر ایمرجنسی کے نفاذ کے کوئی سیاسی اثرات سامنے آتے ہیں تو انہیں برداشت کرنا پڑے گا ، انہوں نے کہا کہ  حکومت خیبرپختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے تمام آئینی اور سیاسی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مشاورت کر رہی ہے۔

editor

Related Articles