انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف آج رات 11 بجے اس حوالے سے حتمی فیصلے اور ممکنہ توسیع کا رسمی اعلان کریں گے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذرائع کے مطابق ’تاجروں کی آسان اسکیم‘ کے تحت انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کا قوی امکان ہے، جس کے بعد تاجر برادری کے لیے ریلیف کی توقع کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ممکنہ توسیع سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم آج رات 11 بجے اس معاملے پر حتمی فیصلے اور توسیع کا رسمی اعلان کریں گے۔
ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ ’تاجروں کی آسان ٹیکس اسکیم‘ پہلی مرتبہ متعارف کرائی گئی ہے، اس لیے تاجروں کو نئے نظام سے ہم آہنگ ہونے کا موقع دینے کے لیے تاریخ میں توسیع کا امکان ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر اور کمپنیوں کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی مقررہ تاریخ میں کسی قسم کی توسیع نہیں کی جائے گی اور ان کے لیے سابقہ ڈیڈ لائن ہی برقرار رہے گی۔
ایف بی آر کے مطابق تمام اہم شراکت داروں اور تجارتی تنظیموں سے مشاورت جاری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: 26 ارب روپے سے زائد ٹیکس ڈیفالٹ، ایف بی آر کا بحریہ گالف سٹی کی 32 کنال جائیداد نیلام کرنے کا اعلان
دوسری جانب فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی نئی آخری تاریخ 31 اکتوبر مقرر کی جائے۔
ثاقب فیاض مگوں کے مطابق آئی آر آئی ایس سسٹم کی سست روی کے باعث ٹیکس دہندگان کو ریٹرنز جمع کرانے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ آئی آر آئی ایس پورٹل بار بار سست روی، تکنیکی خرابیوں اور ڈاؤن ٹائم کا شکار رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ ٹیکس قوانین اور رپورٹنگ کے تقاضوں میں پیچیدگی کے باعث بھی ٹیکس دہندگان میں ابہام پیدا ہوا ہے، جبکہ مہنگائی اور کاروباری اخراجات میں اضافے نے ایس ایم ایز کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر کا کہنا تھا کہ ڈیڈ لائن میں توسیع سے ٹیکس دہندگان کو اپنے ریٹرنز مکمل کرنے کے لیے ضروری مہلت ملے گی اور بہتر ٹیکس کمپلائنس ممکن ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ریٹرن جمع کرانے کی مدت میں اضافی وقت دینے سے ایکٹو ٹیکس فائلرز کی تعداد بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔
ثاقب فیاض مگوں نے وزیراعظم، وزیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ زمینی حقائق کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کی جائے۔
