پاکستان کی معیشت نے استحکام کی جانب قدم بڑھائے ہیں مگر عوام ابھی بھی مہنگائی اور بدعنوانی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔جہاں حکومت کی مالیاتی اصلاحات نے کچھ سکون دیا ہے، وہیں بدعنوانی اور مہنگائی عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیے ہوئے ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ میں ملک بھر میں بدعنوانی کے حوالے سے عوامی ردعمل اور معیشتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان میں بدعنوانی کے حوالے سے مخلوط تاثرات سامنے آئے ہیں۔ جہاں کچھ سرکاری خدمات تک رسائی بہتر ہوئی ہے، وہیں بدعنوانی اب بھی عوام کی بڑی تشویش بنی ہوئی ہے۔
رپورٹ کےمطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران 66 فیصد لوگوں نے کہا کہ انہیں حکومتی خدمات حاصل کرنے کے لیے کوئی رشوت نہیں دینی پڑی جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔
تقریباً 60 فیصد شرکاء نے تسلیم کیا کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات، خاص طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آیہ ایم ایف کے ساتھ معاہدہ اور ایف اے ٹی ایف کی گری لسٹ سے نکلنے جیسے اقدامات، معیشت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔
عوامی رائے کے مطابق پولیس بدعنوانی کا سب سے بڑا مرکز ہے جس میں 24 فیصد بدعنوانی رپورٹ ہوئی۔ اس کے بعد ٹینڈرز اور خریداری کے شعبے میں 16 فیصد اور عدلیہ میں 14 فیصد بدعنوانی کے واقعات سامنے آئے۔
اگرچہ رپورٹ میں معیشت کے استحکام کو تسلیم کیا گیا ہے تاہم 57 فیصد شہری مہنگائی کی وجہ سے اپنی خریداری کی قوت میں کمی کی شکایت کرتے ہیں جو ان کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
مزید برآں، 78 فیصد پاکستانی چاہتے ہیں کہ قومی احتساب بیورو، وفاقی تحقیقاتی ادارہ اور دیگر اینٹی کرپشن ادارے خود زیادہ شفاف اور جوابدہ ہوں تاکہ بدعنوانی کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: “شفافیت میں اضافہ اور کرپشن میں کمی ” ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل پاکستان کی جانب سے این سی پی ایس 2025 سروے رپورٹ جاری
یہ رپورٹ پاکستان میں بدعنوانی کے مسئلے اور معیشت کی صورتحال پر عوامی آراء کو واضح کرتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اصلاحات پر فوری توجہ دینی چاہیے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی مکمل رپورٹ اور اس کے کلیدی نتائج ان کی آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب ہیں جہاں سے آپ اسے ڈاؤن لوڈ بھی کر سکتے ہیں۔