وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجودہ سیاسی اختلافات کی ابتدا 2011 میں پی ٹی آئی کے مینارِ پاکستان جلسے سے ہوئی تھی جسے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کبھی بھی نواز شریف یا آصف زرداری نے کبھی بھی عمران خان سے متعلق غلط الفاظ استعمال نہیں کیے،تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ مل بیٹھ کر معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےرانا ثناء اللہ نےکہا کہ اگر نواز شریف، آصف زرداری اور بانی پی ٹی آئی بات کرنے پر تیار ہوں تو ملک میں سیاسی بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے میثاق جمہوریت کے تحت پارلیمنٹ میں دو ادوار کی مدت پوری کی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسائل کو جمہوری اور قانونی طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے 2011 میں سیاست میں قدم رکھا اور تب سے ایک مخصوص سیاسی سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے معاملات مذاکرات کے ذریعے طے نہیں ہو سکے۔ رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر دفاعی اداروں کے خلاف مہم چلا رہی ہے اور اگر یہ مہم جاری رہی تو ملک میں سیاسی سفر کا آغاز ممکن نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے کئی بار اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی، تاہم بانی پی ٹی آئی نے گزشتہ ملاقاتوں میں واضح کیا کہ وہ مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے اور جو بھی مذاکرات کرے گا وہ ان کے پارٹی کا حصہ نہیں ہوگا۔ رانا ثناء اللہ نے یہ بھی کہا کہ 26 نومبر کے حوالے سے جو منصوبہ بندی طے پائی تھی اس پر بانی پی ٹی آئی نے ملاقاتوں کے ذریعے رہنمائی فراہم کی تھی۔
رانا ثناء اللہ کا مؤقف تھا کہ تمام جماعتیں اور سیاسی رہنما مذاکرات کی اہمیت کو سمجھیں اور ملک میں استحکام کے لیے اپنے اختلافات کو ختم کریں، تاکہ ملک ایک جامع اور پائیدار سیاسی حل کی جانب بڑھ سکے۔