قومی مضمون نویسی مقابلہ 2025 کی اختتامی تقریب اسلام آباد میں منعقد، پاکستان–ترکیہ لازوال دوستی کو خراجِ تحسین

قومی مضمون نویسی مقابلہ 2025 کی اختتامی تقریب اسلام آباد میں منعقد، پاکستان–ترکیہ لازوال دوستی کو خراجِ تحسین

سفارت خانہ جمہوریہ ترکیہ نے نیشنل بک فاؤنڈیشن (این بی ایف) پاکستان اور یونس ایمرے ترک کلچرل سینٹر کے اشتراک سے قومی مضمون نویسی مقابلہ 2025 کی انعامی تقسیم کی تقریب کامیابی سے منعقد کی۔ مقابلے کا موضوع “پاکستان–ترکیہ تعلقات: ایک لازوال رشتہ” تھا، جس میں ملک بھر کی مختلف جامعات کے طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔

تقریب میں وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محترمہ وجیہہ قمر، پاکستان میں ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو، منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن ڈاکٹر کامران جہانگیر، اعلیٰ سرکاری حکام، تعلیمی و ثقافتی اداروں کے نمائندگان، اساتذہ، والدین اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سفیرِ ترکیہ ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو نے کہا کہ اس مضمون نویسی مقابلے کے دو بنیادی مقاصد تھے۔ پہلا، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان صدیوں پر محیط برادرانہ تعلقات کا جشن منانا اور دوسرا، 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد بالاکوٹ میں امدادی سرگرمیوں کے دوران شہید ہونے والے دو ترک انجینئرز، چنک یاکن اور اوفوک ارسلان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس صدرِ جمہوریہ ترکیہ رجب طیب اردوان کے تاریخی دورۂ اسلام آباد کے دوران دونوں ممالک نے سماجی، ثقافتی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے “شوریٰٔ اخوت” کے قیام پر اتفاق کیا تھا، اور یہ مقابلہ اسی وژن کی عملی مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی زبان کے معاملے پر دوہرا معیار؟ سوشل میڈیا صارفین کی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر شدید تنقید

ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو نے پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ عظیم شخصیات اور ہیروز، جن میں قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، تحریکِ خلافت کے علی برادران اور عبدالرحمن پشاورى شامل ہیں، کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مشترکہ ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام شریک طلبہ اور کامیاب امیدواروں کو ان کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں پر مبارکباد دی۔
انہوں نے اناتولیہ ٹریول سروسز کی ویزا سہولیات میں خدمات اور ڈاکٹر خلیل طوقار، کنٹری ڈائریکٹر یونس ایمرے ترک کلچرل سینٹر کی دوطرفہ ثقافتی تعلقات کے فروغ میں کاوشوں کو بھی سراہا۔

وزیر مملکت وجیہہ قمر نے اپنے خطاب میں معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سفارت خانہ ترکیہ کے زیر اہتمام اس بامقصد تعلیمی اقدام پر منتظمین کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان–ترکیہ تعلقات مشترکہ تاریخ، ایمان، اقدار اور باہمی احترام پر مبنی ہیں اور یہ عوامی سطح پر ایک مثالی برادرانہ رشتہ ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں اور تحریر کی طاقت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضمون نویسی جیسے علمی اقدامات عالمی بیانیے کی تشکیل اور بین الاقوامی تعلقات کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وزیر مملکت نے طلبہ کو مستقبل کے سفارت کار، دانشور اور رہنما بننے کی تلقین کی جو پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
انہوں نے ترکیہ کی جانب سے پاکستانی طلبہ کے لیے فراہم کردہ تعلیمی وظائف اور مواقع کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے تبادلہ پروگرام بین الثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومتِ پاکستان کے بین الاقوامی تعلیمی تعاون کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اقوام کے درمیان سب سے مضبوط پل ہے۔

تقریب کے اختتام پر کامیاب طلبہ میں انعامات تقسیم کیے گئے، جن میں پہلا انعام مریم بتول (اخوت کالج فار ویمن، چکوال)، دوسرا انعام عزا نعیم (یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور) اور تیسرا انعام محمد عارض ظفر (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز، پشاور) نے حاصل کیا۔

تقریب اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ تعلیم، ثقافت اور نوجوانوں کی قیادت کے ذریعے پاکستان–ترکیہ دوستی کو مزید فروغ دیا جائے گا اور دونوں ممالک کا یہ رشتہ ہمیشہ ایک لازوال بندھن کے طور پر قائم رہے گا۔

Related Articles