پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی طرف سے فرمائشی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے رکن قومی اسمبلی ثناء اللہ مستی خیل سمیت مزید 5 پی ٹی آئی رہنما بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما ثناء اللہ مستی خیل، سینیٹر سیف اللہ نیازی اور غوث محمد کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ لاجز کے باہر سے حراست میں لیا گیا جبکہ ایم این اے داور خان اور حماد جمال حسن خان کو میانوالی سے گرفتار کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے احتجاج سے قبل ہی فرمائشی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اس سے قبل علیمہ خان اور نورین نیازی ب بھی فرمائشی گرفتاری دے چکی ہیں ۔ اب ثناء اللہ مستی خیل سمیت دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد یہ سلسلہ مزید تیز ہوگیا ہے۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے ، حکومت کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ دارالحکومت میں امن و امان ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور سڑکیں بلاک کر کے عوام کو پریشان کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔
فرمائشی گرفتاریوں کا سلسلہ مزید بڑھنے کا امکان
27 ستمبر کے احتجاج سے قبل پی ٹی آئی کے مزید رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے فرمائشی گرفتاریاں دینے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کی حراست اور احتجاج کی تیاریوں کے باعث اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں اور سیکیورٹی انتظامات دونوں میں تیزی آگئی ہے۔
پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے بھی 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ احتجاج سے متعلق سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔