پی آئی اے کو جدید بنانے کا بڑا منصوبہ، 16 نئے بوئنگ طیاروں کی خریداری پر اتفاق

پی آئی اے کو جدید بنانے کا بڑا منصوبہ، 16 نئے بوئنگ طیاروں کی خریداری پر اتفاق

قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے بیڑے کو جدید بنانے کی حکومتی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکا کے دورے کے دوران بوئنگ کمپنی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بوئنگ گلوبل کے صدر برینڈن نیلسن سے ملاقات کر کے پی آئی اے کے لیے نئے طیاروں کی خریداری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں پی آئی اے کی نئی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے جس میں قومی ایئرلائن کے بیڑے کی توسیع جدید طیاروں کے حصول اور مسافروں کو بہتر سفری سہولتیں فراہم کرنے سے متعلق مختلف امور زیر غور آئے۔

ذرائع کے مطابق حکومت پی آئی اے کے لیے 16 نئے بوئنگ طیارے خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو قومی ایئرلائن کے فلیٹ ماڈرنائزیشن پروگرام کا اہم حصہ ہوں گے ان طیاروں کی شمولیت سے نہ صرف پی آئی اے کی آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی اور بین الاقوامی روٹس پر پروازوں کے دائرہ کار کو بھی وسعت ملے گی۔

ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ طیاروں کی خریداری کے معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔ بوئنگ کی جانب سے پی آئی اے کو نئے طیاروں کی فراہمی کے عمل میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کا بل کب آئے گا؟ حکومت نے صارفین کے لیے نیا شیڈول جاری کر دیا

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بوئنگ گلوبل کے صدر برینڈن نیلسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بوئنگ دنیا کی صفِ اول کی ایرو اسپیس کمپنی ہے جس نے ہوابازی کی صنعت میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے بوئنگ کے جدید طیاروں کی تیاری اور عالمی ہوا بازی کے شعبے میں کمپنی کے کردار کو سراہا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے بیڑے میں نئے طیاروں کی شمولیت سے ایئرلائن کی کارکردگی بہتر بنانے پروازوں میں تاخیر کم کرنے ایندھن کی بچت، مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے اور بین الاقوامی فضائی منڈی میں قومی ایئرلائن کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملے گی۔

ماہرین کے مطابق اگر مجوزہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ پی آئی اے کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی حکومتی حکمت عملی میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا جبکہ مستقبل میں قومی ایئرلائن کے نیٹ ورک اور کاروباری استعداد میں بھی نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔

editor

Related Articles