عرب نشریاتی ادارے المیادین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مذاکرات میں کسی معاہدے تک نہ پہنچ پانا اس بات کی علامت نہیں کہ پورا سفارتی عمل ناکام ہو چکا ہے۔
ادارے کے مطابق ایسے حالات میں بھی مذاکراتی سلسلہ مختلف مراحل سے گزرتا رہتا ہے اور فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنا ہی آئندہ پیش رفت کی بنیاد بنتا ہے،رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حالیہ صورتحال کے باوجود سفارتی کوششیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں بلکہ پسِ پردہ رابطے اور بات چیت کا عمل جاری رہ سکتا ہے۔
کئی مواقع پر ابتدائی نشستوں میں اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باوجود بعد کے مراحل میں پیش رفت ممکن ہوتی ہے، اسی لیے کسی ایک مرحلے پر تعطل کو مکمل ناکامی تصور نہیں کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں :امریکہ ایران مذاکرات خوش آئند ، فریقین سنہری موقع سے فائدہ اُٹھائیں، اقوام متحدہ
دوسری جانب مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ پاکستان اس پورے عمل میں اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔ پاکستان کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی روابط کو فروغ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے دونوں فریقین کو بات چیت جاری رکھنے، اختلافات کم کرنے اور مشترکہ نکات تلاش کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی حکمت عملی یہ ہے کہ براہِ راست یا بالواسطہ سفارتی روابط کے ذریعے دونوں جانب اعتماد سازی کو فروغ دیا جائے تاکہ کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔
Despite failing to reach an agreement in #Islamabad to end the US-Israeli war on Iran and the region after 21 hours of negotiations, diplomatic efforts are far from over.
Al Mayadeen’s correspondent in Islamabad reported that #Pakistan will continue its diplomatic efforts to… pic.twitter.com/CEAPc8CckA
— Al Mayadeen English (@MayadeenEnglish) April 12, 2026

