وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میں کرپشن کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی بدعنوان افسر کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی اور کرپشن کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا۔
پیر کو اسلام آباد میں ایف آئی اے افسران کی خصوصی کانفرنس میں ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
محسن نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایف آئی اے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اولین ترجیح ہے اور امید ہے کہ سال 2026 کے اختتام تک یہ ایک نئی طرز کا مؤثر ادارہ بن چکا ہوگا۔
انہوں نے ’ہارڈننگ دی اسٹیٹ‘ پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی رِٹ قائم کرنے کے لیے ایف آئی اے کو مضبوط ترین اور قابلِ اعتماد ادارہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے اعلان کیا کہ کانسٹیبلز اور اے ایس آئیز کی ترقیوں کی راہ میں حائل تمام قانونی و انتظامی رکاوٹیں دور کی جائیں گی، کیونکہ پروموشن ہر اہلکار کا بنیادی حق ہے۔
وزیر داخلہ نے ادارے کی افرادی قوت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2008 کی نفری کے ساتھ موجودہ دور کے پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنا ممکن نہیں۔
انہوں نے امیگریشن، اینٹی کرپشن اور ہیومن ٹریفکنگ جیسے اہم شعبوں میں نفری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ دفاتر کی حالت بہتر بنانے کے لیے نئی گاڑیاں اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
محسن نقوی نے ایف آئی اے کے شہدا کے خاندانوں کے لیے پلاٹس دینے اور ان کے بچوں کی تعلیم و صحت کے لیے جامع ویلفیئر منصوبے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایف آئی اے کو ایک ایسا ادارہ بنائیں گے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق جرائم کا قلع قمع کر سکے۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) پاکستان کا وہ کلیدی ادارہ ہے جو سائبر کرائم، انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین جرائم کے خلاف صفِ اول میں کھڑا ہے۔ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل جرائم کی شرح میں اضافے اور عالمی مالیاتی قوانین کی سختی کے باعث ایف آئی اے پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔
2008 کے بعد سے نفری میں نمایاں اضافہ نہ ہونا ایک بڑا انتظامی خلا رہا ہے، جسے اب موجودہ قیادت پر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ’ہارڈننگ دی اسٹیٹ‘ پالیسی دراصل ریاستی اداروں کو اتنا مضبوط اور شفاف بنانا ہے کہ وہ کسی بھی اندرونی یا بیرونی دباؤ کے بغیر قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا سکیں۔