سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن العزم کے تحت دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، تازہ کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے مزید دہشتگرد ہلاک ہونے کے بعد اب تک مارے جانے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 16 ہو گئی ہے۔
کن علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں؟
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں، جن میں کلی کند عمرانی، کھڈکوچہ اور مستونگ شامل ہیں، میں فورسز نے دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں۔
ان کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور تنظیم کی متعدد کمین گاہوں اور ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
اسلحہ و دھماکا خیز مواد برآمد، متعدد گرفتاریاں
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، بارود اور آئی ای ڈی تیار کرنے میں استعمال ہونے والا مواد برآمد کر لیا گیا۔
اس کے علاوہ دہشتگردوں کے زیرِ استعمال متعدد موٹر سائیکلیں بھی ضبط کر لی گئیں، جبکہ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کی سہولت کاری میں ملوث متعدد مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان کے متعدد دہشتگردوں کے زخمی ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں۔
سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن تاحال جاری
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں تاحال جاری ہیں، جبکہ فرار ہونے والے دہشتگردوں کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندی اور تلاشی کا عمل بھی جاری رکھا گیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں دہشتگردوں کی مصدقہ اطلاعات پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا آغاز 23 جولائی 2026 کو کیا گیا تھا، جس میں ابتدائی طور پر 15 دہشتگرد ہلاک، 12 زخمی جبکہ 8 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
آپریشن، جسے ’آپریشن العزم‘ کا نام دیا
اس کے بعد سے یہ آپریشن، جسے ’آپریشن العزم‘ کا نام دیا گیا ہے، مسلسل جاری ہے اور مختلف مراحل میں فورسز کو کامیابیاں مل رہی ہیں۔ ابتدائی طور پر ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 13 بتائی گئی تھی، جو مزید کارروائیوں کے بعد اب بڑھ کر 16 ہو چکی ہے۔
فتنہ الہندوستان کی اصطلاح سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بلوچستان میں سرگرم ان علیحدگی پسند اور دہشتگرد گروہوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن پر بھارتی خفیہ اداروں کی معاونت اور فنڈنگ کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ گروہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز، ترقیاتی منصوبوں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں، جس کے تدارک کے لیے فورسز نے حالیہ عرصے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔
انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بھرپور کارروائیاں
مستونگ سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں گزشتہ کچھ عرصے سے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا تھا، جس کے پیشِ نظر فورسز نے مخصوص علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بھرپور کارروائیاں شروع کیں۔
بلوچستان میں جاری آپریشن العزم سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف مسلسل اور منظم حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں محض جوابی کارروائی کے بجائے مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پیشگی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
ایک ہی علاقے یعنی کھڈکوچہ میں بار بار کامیاب آپریشنز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فورسز کو علاقے میں دہشتگردوں کے نیٹ ورک کے حوالے سے ٹھوس اور قابلِ اعتماد معلومات حاصل ہو رہی ہیں، جو کارروائیوں کی کامیابی کی بنیادی وجہ ہیں۔