مشرق وسطیٰ صورتحال ، خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

مشرق وسطیٰ صورتحال ، خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایک بار پھر عالمی معیشت کے لیے اہم خبر بن گیا ہے۔

 برینٹ کروڈ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں نمایاں تیزی نے نہ صرف سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے بلکہ دنیا بھر میں مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں سے متعلق خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو عام صارفین کو آنے والے دنوں میں مزید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت 93 ڈالر 50 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل تقریباً 90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے ،  اسی طرح مربن خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل کے قریب فروخت ہو رہا ہے، جو مارکیٹ میں مضبوط طلب اور سپلائی سے متعلق خدشات کی نشاندہی کرتا ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ  معاہدے میں پیش رفت نہ ہونے سے تیل کی عالمی سپلائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے،  یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار محتاط انداز اپناتے ہوئے خام تیل کی خریداری بڑھا رہے ہیں۔

مزید یہ کہ عالمی معیشت میں بہتری کی توقعات بھی تیل کی طلب میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں پر اوپر کی جانب دباؤ برقرار ہے۔

ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مثبت رجحان

دلچسپ بات یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ایشیائی مالیاتی منڈیوں میں کاروباری ہفتے کا آغاز مثبت انداز میں ہوا ہے ، جنوبی کوریا کا کاسپی انڈیکس اور جاپان کا نکئی انڈیکس گزشتہ ہفتے کی شاندار کارکردگی کے بعد آج بھی سبز زون میں ٹریڈ کرتے دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھیں :حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

سرمایہ کاروں کا اعتماد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ فی الحال عالمی اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری کے امکانات کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔

عوام اور معیشت پر اثرات اور مستقبل؟

خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کئی ممالک میں پٹرول، ڈیزل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھا سکتا ہے،  اس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے، جو عام صارفین کے لیے اضافی بوجھ بن سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے  کہ اگر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو کئی معیشتوں کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مزید سخت اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں ، آنیوالے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں ایران امریکا مذاکرات، اوپیک پلس کی پالیسیوں اور عالمی طلب کے اعداد و شمار پر مرکوز رہیں گی ،  یہی عوامل طے کریں گے کہ تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں یا مارکیٹ میں استحکام آتا ہے۔

editor

Related Articles