مشرقِ وسطیٰ میں جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں نہیں آیا اور قیمتی دھات نسبتاً مستحکم سطح پر برقرار رہی۔ سرمایہ کار خطے کی صورتحال ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور عالمی معاشی اشاریوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی منڈی میں اسپاٹ گولڈ 4,481.53 ڈالر فی اونس پر تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے برقرار رہا جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اگست میں ڈیلیوری کے لیے سونے کے سودے 4,511.20 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی معمولی ردوبدل دیکھا گیا۔
سرمایہ کاروں کو توقع تھی کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جنگ بندی میں مزید توسیع یا کوئی بڑا سفارتی بریک تھرو سامنے آئے گا تاہم ایسی پیش رفت نہ ہونے کے باعث غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اس کے باوجود سونے کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جس کی ایک وجہ سرمایہ کاروں کا محتاط طرزِ عمل بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کے اعلان کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے تاہم ایران سے متعلق صورتحال اور علاقائی تنازعات اب بھی عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے اہم عوامل بنے ہوئے ہیں۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکا سے جاری ہونے والے روزگار اور معیشت سے متعلق اہم اعداد و شمار پر مرکوز ہیں۔ خاص طور پر نان فارم پے رولز رپورٹ اور امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں کے بیانات آئندہ دنوں میں سونے سمیت دیگر عالمی منڈیوں کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔