امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر لیا جانے والا انکم ٹیکس ختم کیا جائے۔
ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے مڈل کلاس تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا، جس کی وجہ سے مڈل کلاس شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی، گیس کے بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی اور روزمرہ کی اشیاء پر ٹیکس کی وجہ سے مڈل کلاس کی زندگی مشکل ہو گئی ہے، اور بجٹ میں اس طبقے کے لیے ریلیف دیا جانا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ 1 لاکھ 25 ہزار روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ والوں کی شرح کم از کم آدھی کر دی جائے اور زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی حد 35 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے ملک کی معاشی اور سائنسی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔